مراٹھا ریزرویشن کیلئے جاری جدوجہد کی قیادت کرنے والے منوج جرنگے پاٹل کا عزم اگرچہ برقرار ہے، تاہم۱۹؍ روزہ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی جسمانی حالت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 11:40 AM IST | ZA Khan | Patoda
مراٹھا ریزرویشن کیلئے جاری جدوجہد کی قیادت کرنے والے منوج جرنگے پاٹل کا عزم اگرچہ برقرار ہے، تاہم۱۹؍ روزہ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی جسمانی حالت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
مراٹھا ریزرویشن کیلئے جاری جدوجہد کی قیادت کرنے والے منوج جرنگے پاٹل کا عزم اگرچہ برقرار ہے، تاہم۱۹؍ روزہ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی جسمانی حالت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ممبئی کی جانب جاری مارچ کے دوران بیڑ ضلع کے پاٹودا میں قیام کے وقت منوج جرنگے سے ملاقات کیلئے پہنچنے والے ان کے والد راؤ صاحب جرنگے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔معلوم ہوکہ انترولی سراٹی سے ہزاروں حامیوں کے ساتھ روانہ ہونے والے منوج جرنگے منگل کی نصف شب تقریباً ۲؍ بجے پاٹودا پہنچے۔ رات کے اس پہر بھی ان کے استقبال اور انہیں دیکھنے کیلئے چوک میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔ طبیعت تشویشناک ہونے کے باوجود جرنگے نے موجود لوگوں سے خطاب کیا اور یہ میٹنگ تقریباً ڈھائی بجے تک جاری رہی۔ بعدازیں تھکن اور کمزوری کے باعث منوج جرنگے اسٹیج پر ہی سو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: آٹگاؤں کے قریب حادثہ، کار، ٹرک کے ڈھانچے میں جاگھسی
اسی دوران ان سے ملاقات کیلئے ان کے والد راؤ صاحب جرنگے وہاں پہنچے۔ گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث بیٹے کی کمزور ہوتی حالت اور سَلائن لگوانے سے انکار دیکھ کر راؤ صاحب انتہائی جذباتی ہوگئے۔کافی دیر تک وہ خاموشی سے سوئے ہوئے بیٹے کو دیکھتے رہے، لیکن آخرکار اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے جھک کر بیٹے کے کندھے پر سر رکھا اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ باپ کی آنکھوں میں یہ آنسو اور بے بسی دیکھ کر وہاں موجود کئی مراٹھا حامی بھی جذباتی ہوگئے۔ انتہائی مضطرب حالت میں راؤ صاحب جرنگے اسٹیج سے باہر نکل گئے۔ دریں اثنا، منوج جرنگے پاٹل کی طبیعت تیزی سے بگڑنے کی اطلاع ہے۔