اسلام آباد میں گفتگو کی ناکامی کے بعد پھر دھمکیوں کا دور، ایران کو ایک دن میں تباہ کردینے کا انتباہ، ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کیلئے اتحادیوں سے مدد مانگی۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 10:13 AM IST | Washington
اسلام آباد میں گفتگو کی ناکامی کے بعد پھر دھمکیوں کا دور، ایران کو ایک دن میں تباہ کردینے کا انتباہ، ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کیلئے اتحادیوں سے مدد مانگی۔
ایران کے ساتھ اسلام آباد میں امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پھر جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نےاب آبنائے ہرمز پر قبضہ کا اعلان کردیا ہے جو فی الحال ایران کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران کو ایک ہی دن میں تباہ کردینے کی دھمکی بھی دہرائی اور آبنائے ہرمز پر ایران کے ذریعہ بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کیلئے اتحادی ملکوں کی مدد بھی مانگی ہے۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں امریکی صدر نے یہ امید ظاہر کی کہ بارودی سرنگوں کو ہٹانے کیلئے برطانیہ ’’مائن سویپرس‘‘ بھیجے گا۔
ایران کو ٹول دینےوالوں کو بھی انتباہ
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ’’فوری طور پر‘‘ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی۔ اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ـٹرمپ نے ایران پر آبنائے ہرمز سے’’ہفتہ وصولی‘‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکی بحریہ بین الاقوامی پانیوں میں ان جہازوں کو بھی روکے گی اور ان کی تلاشی لے گی جنہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایران کو ٹول ادا کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ’’ فوری طور پر، امریکی بحریہ، جو دنیا کی بہترین بحریہ ہے، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کرے گی۔ ‘‘
آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول برقرار
۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد سے ہی ایران آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ آبنائے پر اس کا عملی کنٹرول ہے، جو عالمی توانائی مارکیٹ کیلئے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ دنیا بھر کا ۲۰؍ فیصد ایندھن آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ ایران نے اس تنگ آبی راستے سے گزرنے والی ٹریفک کو تقریباً روک دیا ہے، جس سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت میں ہلچل مچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل ہیں: امریکی دعوؤں پر نئی رپورٹ
ایران نے امریکی دعویٰ کی تردید کی
اس بیچ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو جہاز بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کیلئے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں تاہم ایران نےاس کی تردید کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی فوجی جہاز ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے’’سخت جواب‘‘ دیا جائے گا۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو ’’ہفتہ وصولی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ اگر ایرانی افواج نے امریکی فوج یا’’پُرامن جہازوں ‘‘ پر فائرنگ کی تو انہیں ’’تباہ کر دیا جائے گا۔ ‘‘
ٹرمپ پھر اتحادیوں کی مدد کے متمنی
امریکہ بھلے ہی خود کو سپر پاور کہتے نہیں تھکتا مگر ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بعد سے ٹرمپ اپنے اتحادیوں سے مدد مانگ رہے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے پھر کہا کہ امریکہ کے ذریعہ آبنائے ہرمز کی اس ناکہ بندی میں کچھ’’دیگر ممالک‘‘ بھی شامل ہوں گے اور وہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرکے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔
ایران کا اپنی کرنسی میں ٹول کا مطالبہ
اس سے پہلے ایران کے نائب اسپیکر حاجی بابائی نے کہا ہے کہ یہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے اسے تہران کی سرخ لکیر قرار دیا اور کہا کہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی کرنسی ریال میں ٹول ادا کرنا ہوگا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں کر رکھا ہے۔ وہ یہاں سے جہاز گزارتا رہا ہے اور کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد بھی ہرمز پر ایران کا کنٹرول رہےگا اور وہ یہاں ٹول سسٹم قائم کر سکتے ہیں، جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کو ایران اوراس کے پڑوسی ملک عمان کو فیس ادا کرنی ہوگی۔