Updated: May 05, 2026, 10:04 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ آئندہ ۱۰؍ سال تک وہائٹ ہاؤس نہیں چھوڑیں گے، ان کے اس بیان کے بعد ٹرمپ کے تیسری مرتبہ صدر کا انتخاب لڑنے کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں، جبکہ امریکی آئین کسی بھی صدر کو ۲؍ مرتبہ ہی عہدے پر فائز رہنے کی اجازت دیتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر۴؍ مئی کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے عہدے پر آٹھ نو سال تک فائز رہنے کا اشارہ دیا، جو دو اضافی مدتوں کے برابر ہے۔ اگرچہ یہ تبصرہ ہلکے پھلکے انداز میں کیا گیا جس پر وائٹ ہاؤس کے اہلکار قہقہے لگا رہے تھے، لیکن اس سے ٹرمپ کے ماضی کے بیانات تازہ ہو گئے جن میں انہوں نے دو مدتوں کی حد ختم ہونے کے بعد بھی صدارت کے لیے انتخاب لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی چھوٹے کاروباری سربراہی اجلاس میں بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ کم از کم آٹھ سے نو سال بعد وہائٹ ہاؤس سے باہر ہو سکتے ہیں۔امریکی صدر نے طنزیہ انداز میں کہا، ’جب میں عہدے سے باہر ہوں گا، مثلاً آج سے آٹھ یا نو سال بعد، میں اسے استعمال کرنے کے قابل ہوں گا۔ میں خود اسے استعمال کرنے کے قابل ہوں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن، میرا مطلب ہے، میں بنیادی طور پر انہیں بتاتا ہوں کہ ہمیں ابھی طویل سفر طے کرنا ہے، آپ جانتے ہیں، میری انتظامیہ کے ابتدائی دن ہیں، مجھے کام کرنا پسند ہے۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران کو دوٹوک پیغام، معاہدہ یا جنگ کا انتخاب
ذہن نشین رہے کہ امریکی آئین کی بائیسویں ترمیم کے مطابق، کوئی بھی شخص صدر کے عہدے کے لیے دو بار سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتا۔جبکہ ٹرمپ اس وقت وہائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت پوری کر رہے ہیں۔اس سے قبل ٹرمپ نے۲۰۲۵ء میں کہا تھا، ’’بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ میں ایسا کروں، ہمارے پاس طریقے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ ایک مرتبہ انہوں نے ملے جلے اشارے دیے تھے اور تیسری بار صدارت کے لیے انتخاب لڑنے کا خیال پیش کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے میں کرنا چاہتا ہوںاور میرے خیال میں ایسا کرنا بہت مشکل ہوگا۔‘‘تاہم انہوں نے وزارت انصاف کو یہ جانچنے کی ہدایت دینے سے بھی انکار کیا کہ آیا تیسری مدت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بڑی توڑ پھوڑ ہوگی، ہے نا؟ ٹھیک ہے، شاید میں صرف توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘ساتھ ہی اسی انٹرویو میں، ٹرمپ نے ان خدشات کو بھی مسترد کر دیا کہ ان کے اقدامات خطرناک نظیر پیش کر سکتے ہیں۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ایسا کرنے کے طریقے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن: غیر ملکی ڈاکٹروں پر ویزا پابندیاں نرم
اگرچہ بائیسویں ترمیم کے تحت امریکی آئین کسی بھی فرد کو تیسری بار صدارتی انتخاب لڑنے سے روکتا ہے۔جبکہ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قانون کی مختلف تشریح بھی کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کی کوئی بھی چال قانونی بحران کو جنم دے گی، اور عدالتوں سے بائیسویں ترمیم کے معنی کی تشریح کرنے کو کہا جائے گا۔