ایران جنگ کے دوران امریکی مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو امریکی فیصلوں سے جوڑا جبکہ ایران کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 9:04 PM IST | Washington
ایران جنگ کے دوران امریکی مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی کارروائیوں کو امریکی فیصلوں سے جوڑا جبکہ ایران کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔
(۱) ٹرمپ کا سخت مؤقف: اسرائیل کی کارروائیاں امریکی فیصلوں سے منسلک
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں امریکی فیصلوں کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ اقدامات مشترکہ حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اسرائیل وہی کرے گا جو ہم کہیں گے، اور جب ہم روکیں گے تو وہ رک جائے گا۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایران جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی فوجی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اہداف اور حکمت عملی کے حوالے سے مسلسل رابطہ موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ خطے میں اپنی فوجی اور سیاسی پوزیشن کو مضبوط رکھنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہا ہے، جبکہ اس بیان کو ایران کیلئے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا ٹرمپ کی ’پتھر کے زمانے‘ کی دھمکی پر دوٹوک جواب، امریکہ کو خبردار کیا
(۲) امریکی انتباہ میں شدت: ایران کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا عندیہ
امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو ایران کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ انتباہ ایران کی جانب سے جاری کارروائیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ ’’ضرورت پڑنے پر مزید اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘‘
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں فوجی تنصیبات، لاجسٹک نیٹ ورکس اور دیگر اسٹریٹیجک مقامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے اپنے فوجی آپشنز کو کھلا رکھا ہے اور خطے میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔