امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اٹلی کے مابین پوپ اور ایران جنگ کے تعلق سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’اٹلی ہمارے ساتھ نہیں تھا، ہم ان کے ساتھ نہیں ہوں گے!‘‘
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 4:09 PM IST | Rome
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اٹلی کے مابین پوپ اور ایران جنگ کے تعلق سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’اٹلی ہمارے ساتھ نہیں تھا، ہم ان کے ساتھ نہیں ہوں گے!‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دھمکی دی کہ وہ اٹلی کے دفاع کے لیے نہیں آئیں گے، جبکہ ایران جنگ اور کیتھولک پوپ لیو کے معاملات پر واشنگٹن اور روم کے تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا: ’’اٹلی ہمارے ساتھ نہیں تھا، ہم ان کے ساتھ نہیں ہوں گے!‘‘واضح رہے کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، جو کبھی امریکی صدر کی قریبی اتحادی تھیں، نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ سے سخت اختلاف کیا۔ یہ کشیدگی نیٹو اتحادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلاف کے باعث ہے، جس کی وجہ ٹرمپ کی پوپ لیو پر کھلی تنقید اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ پر ان کا کیا گیا فیصلہ ہے، جس نے عالمی بازارکو غیر مستحکم کر دیا ہے۔منگل کو ٹرمپ نے کہا کہ ’’وہ حیران ہیں کہ میلونی ایران کے خلاف جنگ میں ہماری مدد نہیں کرنا چاہتیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران جنگ کو ’’چھوٹا سا رخ بدلنا‘‘ قرار دیا، جلد خاتمے کا دعویٰ
دریں اثناء کوریئرے دیلا سیرا اخبار کو دیے گئے اپنے بیان میں ٹرمپ نے ان باتوں کا ذکر کیا، جبکہ اس سے قبل میلونی نے ایران جنگ کی مخالفت پر کیتھولک پوپ لیو کے خلاف ٹرمپ کے غصے کو’’ نا قابلِ قبول‘‘ قرار دیا تھا۔ٹرمپ نے کہا’’وہ (میلونی) ناقابلِ قبول ہیں کیونکہ انہیں پرواہ نہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، اور اگر موقع ملا تو وہ دو منٹ میں اٹلی کو اڑا سکتے ہیں۔‘‘اس سے قبل پوپ نے بارہا غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے،اور وہاں کے حالات کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے، اور اسرائیلی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، ساتھ ہی ایران پر امریکہ -اسرائیل جنگ کی بھی مخالفت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی ہائی کورٹ میں انتہا پسند وزیربین گویرکی برطرفی کی درخواست پر سماعت شروع
بعد ازاں ٹرمپ نے کہا،’’کیا کوئی پوپ لیو کو بتا سکتا ہے کہ ایران نے گزشتہ دو مہینوں میں کم از کم ۴۲؍ہزاربے گناہ، غیرمسلح مظاہرین کو قتل کیا ہے، اور یہ کہ ایران کے پاس ایٹم بم کا ہونا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔‘‘ تاہم اٹلی میں وزیراعظم میلونی کے ساتھ حزبِ اختلاف کے لیڈروں نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر شدید تنقید کی ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کی سکریٹری ایلی شلائن نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ حزب اختلاف لیڈر ہیں تام صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا میلونی پر اس طرح کےحملے کی سختی سے مذمت کی جانی چاہئے، ہم اس ایوان میں حریف ہیں، لیکن تمام اطالوی شہری اور ہم حکومت اور اپنے ملک کے خلاف حملوں یا دھمکیوں کو قبول نہیں کریں گے۔یہ بھی یاد رہے کہ اگرچہ موجودہ پوپ امریکی شہریت کے حامل ہیں، لیکن ویٹیکن کی روم کے قلب میں ایک چھوٹی ریاست کے طور پر موجودگی اور کیتھولک مذہب اٹلی کا غالب عقیدہ ہونا، پوپ پر کسی بھی حملے کو تقریباً خود اٹلی پر حملہ بنا دیتا ہے۔