امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں تہران میں ٹرمپ مخالف مظاہروں کے دوران فرضی پھانسی کا منظر پیش کیا گیا اور امریکی و اسرائیلی لیڈرز کی تصاویر والا بینر جلایا گیا۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 12:04 PM IST | Tehran
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں تہران میں ٹرمپ مخالف مظاہروں کے دوران فرضی پھانسی کا منظر پیش کیا گیا اور امریکی و اسرائیلی لیڈرز کی تصاویر والا بینر جلایا گیا۔
ایران نے اپنی سڑکوں کو امریکہ مخالف مظاہروں کا مرکز بنا دیا ہے۔ دارالحکومت تہران میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی فرضی پھانسی کا منظر پیش کرنے اور امریکہ و اسرائیل کے اہم لیڈرز کی تصاویر پر مشتمل ایک بڑے بینر کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات نے توجہ حاصل کی ہے۔ یہ مظاہرے ۳؍ نومبر کو امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل کرکے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا پہنچایا۔ ان مظاہروں کے ذریعے تہران کی جانب سے سیاسی پیغام رسانی میں بھی شدت آئی ہے، جبکہ اس بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے کہ آیا واشنگٹن ایران پر دوبارہ فوجی حملے شروع کرسکتا ہے۔
Trump’s dummy was executed in Tajrish Square. (Tehran) https://t.co/rJdh3oZjiM
— Seyyed Amir (@AmirJ3193) November 4, 2026
ٹرمپ کو سلاخوں کے پیچھے قیدی دکھایا گیا، فرضی پھانسی کا منظر پیش کیا گیا
ایک مظاہرے میں اداکاروں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سلاخوں کے پیچھے قیدی کے طور پر پیش کیا، جبکہ ایک منظر میں انہیں تختۂ دار کی جانب لے جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ مظاہرہ تہران کے تجریش اسکوائر میں پیش کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ اس سے قبل ۲۱؍ اکتوبر کو بھی ایک مظاہرہ کیا گیا تھا، جس میں ٹرمپ کا ماسک پہنے ایک اداکار کو فرضی جیل کی کوٹھری میں دکھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وسطی تہران میں ایک اور بڑا بل بورڈ لگایا گیا تھا، جس پر انگریزی میں لکھا تھا، ’’ہم ٹرمپ کو قتل کردیں گے۔‘‘ یہ مناظر جاری تنازع کے دوران امریکی صدر کے خلاف تہران کی بڑھتی ہوئی سخت بیان بازی کی عکاسی کرتے ہیں۔
🚨 Footage out of Tehran shows a massive banner featuring President Trump, VP JD Vance, Bibi Netanyahu going up in flames. The Iranian regime’s Trump hatred is on full display. Time for the MOAB https://t.co/Y3xcFrcjXn
— Chad Ledger (@TheChadLedger) November 4, 2026
ٹرمپ، وینس اور نیتن یاہو کی تصاویر والا بینر نذرِ آتش
بدھ کے روز ۱۹۷۹ء میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر ہزاروں حکومت حامی مظاہرین تہران کے انقلاب اسکوائر پر جمع ہوئے۔ اس دوران ایک بڑے بینر کو آگ لگا دی گئی، جس پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تصاویر موجود تھیں۔ مظاہرین نے امریکی اور اسرائیلی پرچم بھی نذرِ آتش کیے اور ’’امریکہ مردہ باد‘‘ اور ’’اسرائیل مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی انتخابات کے نتائج کو جنگ مخالف جذبات سے جوڑتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’امریکیوں نے جنگ کو ’نہیں‘ کہا ہے اور ہم اس پیغام کی تائید کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: چائنا میئویل کا ۱۲۶۴؍ صفحات کا ناول ’دی راؤز‘ گولڈ اسمتھز پرائز کا حقدار
وسط مدتی انتخابات میں دھچکا، نئے امریکی حملوں کے خدشات
ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف آٹھ ماہ سے جاری امریکا اور اسرائیل کی جنگ، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست میں کردار ادا کیا۔ تاہم سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ انتخابی نتائج سے تہران کے تئیں واشنگٹن کی پالیسی تبدیل ہوجائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر لڑائی شروع ہونے سے روکنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکہ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان بدستور ایک بڑا خدشہ بنا ہوا ہے۔