ہندوستانی گیندباز نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنقید کرنے والوں کا منہ بند کردیا۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 1:00 PM IST | Agency | New Delhi
ہندوستانی گیندباز نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنقید کرنے والوں کا منہ بند کردیا۔
بین الاقوامی کرکٹ میں ابتدائی ناکامی اکثر صلاحیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتی ہے لیکن انشول کمبوج نے ہار ماننے کے بجائے اپنی گیند بازی کو مزید نکھارنے پر توجہ دی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے یکروزہ میچ میں ہریانہ کے اس تیز گیند باز نے یہ ثابت کر دیا کہ ٹیم مینجمنٹ کا ان پر اعتماد کیوں قائم ہے۔ آکلینڈ کے ایڈن پارک میں اپنا محض دوسرا ون ڈے میچ کھیلتے ہوئے کمبوج نے ۱۰؍ اوور میں صرف۲۲؍ رن دے کر ۲؍ وکٹیں حاصل کیں اور اس شاندار کارکردگی پر انہیں پلیئر آف دی میچ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی درست لائن اور لینتھ، گیند کو سیم سے موو کرانے کی صلاحیت اور بڑھی ہوئی رفتار نے کیوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
کمبوج کی اس کامیابی کے پیچھے ان کی سخت محنت کے ساتھ ساتھ بہتر حکمت عملی بھی شامل تھی۔ محمد سراج کی جگہ ٹیم میں شامل کئے جانے والے انشول نے اتوار کو نیٹ پر وراٹ کوہلی اور روہت شرما کو گیند بازی کی اور اگلے دن آرام کیا۔ میدان پر اس کی واضح جھلک دکھائی دی۔ انہوں نے شروع سے ہی ایک ہی لینتھ پر مسلسل گیند بازی کی اور بلے بازوں کی جارحانہ کوششوں کے باوجود اپنی حکمت عملی نہیں بدلی۔ کمبوج نے اپنے پہلے اسپیل میں ۵؍ اوور میں صرف ۱۲؍ رن دئیے۔ ان کی نپی تلی گیند بازی نے نیوزی لینڈ پر دباؤ ڈالا، جس کا فائدہ دوسرے سرے سے عرشدیپ سنگھ اور گرنور برار نے اٹھایا۔ بعد میں دوسرے اسپیل میں کمبوج نے اپنی رفتار میں اضافہ کیا اور ۱۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے قریب گیند بازی کرتے ہوئے مچل سینٹر اور ناتھن اسمتھ کو لگاتار ۲؍ اووروں میں پویلین کی راہ دکھائی۔اس کارکردگی نے نیوزی لینڈ کی اننگز کو سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: سہیل احمد بھٹ کے دو گول، ہندوستان نے پاکستان کو ۲۔۳؍گول سے ہرایا
میچ کے بعد کمبوج نے کہا کہ ایک مقابلے سے کسی کھلاڑی کا کریئر طے نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا ’’میں پہلے بھی وہی چیزیں کر رہا تھا۔ مانچسٹر ٹیسٹ کے بعد اچھا پرفارم کرنے کی تحریک ملی۔ میں باہر کی باتوں پر توجہ نہیں دیتا اور اپنی گیند بازی پر مسلسل محنت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بہترین تیاری سے اعتماد بڑھتا ہے اور میچ کے دوران غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ انشول کے بین الاقوامی کریئر کا آغاز توقعات کے مطابق نہیں رہا تھا۔ گزشتہ سال مانچسٹر میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے انشول نے ۱۸؍ اوورز گیند بازی کی تھی اور صرف ایک وکٹ حاصل کر پائے تھے۔ اس کے بعد جب وہ ٹیم کے ساتھ دوبارہ جڑے تو ان کی بڑھی ہوئی رفتار سے ٹیم مینجمنٹ کافی متاثر ہوا اور انہیں ایک اور موقع دینے کے حق میں نظر آیا۔ اس کے بعد انہوں نے گزشتہ ماہ گوہاٹی ون ڈے میں ڈیبیو کیا لیکن وہ کافی مہنگے ثابت ہوئے اور ۹؍ اوورز میں ۸۲؍رن لٹا دئیے۔ اس کے باوجود ٹیم مینجمنٹ اور کپتان شبھ من گل نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ گل نے صاف کہا تھا کہ کمبوج اور عاقب نبی ٹیم کی مستقبل کی اسکیم کا حصہ بنے رہیں گے۔ کپتان کے اسی بھروسے اور اپنی محنت کا جواب کمبوج نے آکلینڈ کے میدان پر اپنی گیند بازی سے دیا۔ ان کی اس کارکردگی نے ٹیم انڈیا کو تیز گیند بازی میں ایک اور مفید متبادل فراہم کر دیا ہے۔