امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک متنازع تصویر شیئر کی، جس کے بعد اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ان کی کشیدگی ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 8:18 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک متنازع تصویر شیئر کی، جس کے بعد اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ان کی کشیدگی ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک متنازع تصویر شیئر کی، جس کے بعد اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ان کی کشیدگی ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی۔ شیئر کی گئی تصویر جی ۷؍ سربراہی اجلاس کی ہے، جس میں میلونی کو ٹرمپ کی جانب دیکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ تصویر پر انگریزی میں Restraining Order Needed (عدالتی حکم نامے کی ضرورت ہے) کے الفاظ درج ہیں۔ خیال رہے کہ عدالتی حکم امتناعی ایک قانونی حکم ہوتا ہے جو کسی فرد کو آپ سے رابطے کرنے، قریب آنے، یا ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ Restraining Order Needed کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی حفاظت کے لیے اس قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے اس پوسٹ کی مزید وضاحت نہیں کی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دونوں لیڈروں کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب جی ۷؍ اجلاس کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جارجیا میلونی نے ان سے مشترکہ تصویر لینے کے لیے ’’منت سماجت‘‘ کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے تصویر کھنچوانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، تاہم انہوں نے ’’ہمدردی‘‘ کی بنیاد پر اس کی اجازت دی کیونکہ ان کے بقول میلونی اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس بیان کے جواب میں جارجیا میلونی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ٹرمپ کے دعوؤں کو ’’مکمل طور پر من گھڑت‘‘ اور ’’احمقانہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نہ میں اور نہ ہی اٹلی کبھی کسی سے بھیک مانگتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران نے خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت پر ہندوستان کا شکریہ ادا کیا
میلونی نے مزید کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ زیادہ سخت لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔ بعد ازاں ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ میلونی نے تصویر کے لیے ’’بار بار درخواست‘‘ کی تھی۔ اس پر اطالوی وزیر اعظم نے طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اپنی مقبولیت کے سرویز اور ریٹنگز کے بارے میں حد سے زیادہ فکر مند رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میری مقبولیت آپ کی فکر کا موضوع نہیں ہونی چاہیے، بہتر ہوگا کہ آپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔‘‘ دونوں لیڈروں کے درمیان اختلافات صرف اس معاملے تک محدود نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھئے: جون میں اسرائیلی افواج نے مسجد اقصیٰ پر۲۶؍ بار چھاپے مارے: فلسطینی وزارتِ اوقاف
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے اٹلی کے فضائی اڈوں اور رن ویز کے استعمال کی اجازت طلب کی تھی، تاہم اطالوی حکومت نے اس پر فوری رضامندی ظاہر نہیں کی۔ میلونی نے واضح کیا تھا کہ اس نوعیت کے فیصلوں کے لیے پارلیمانی حمایت ضروری ہے، جبکہ ٹرمپ نے اس مؤقف کو ’’ہمت کی کمی‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔ بعد ازاں جب پوپ لیو چہاردہم نے جنگ اور تشدد پر تشویش کا اظہار کیا تو ٹرمپ نے ان کے بیانات پر بھی تنقید کی، جس پر جارجیا میلونی نے پوپ کے خلاف امریکی صدر کے ریمارکس کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا تھا۔ تازہ سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان سفارتی تعلقات اور سیاسی اختلافات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔