Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت پر ہندوستان کا شکریہ ادا کیا

Updated: July 06, 2026, 4:08 PM IST | Tehran

ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے نے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت پر ہندوستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور تاریخی تعلقات کی عکاسی قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے مختلف ممالک کو تہران میں ہونے والی آخری رسومات میں شرکت سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔

Indian delegation on its way to attend Khamenei`s funeral. Photo: INN
ہندوستانی وفد خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے جاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے نے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات میں شرکت پر ہندوستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور سفارتی تعلقات کی مضبوط علامت ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے مختلف ممالک کو خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت سے روکنے کے لیے سفارتی مہم چلائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دنیا بھر میں تعینات امریکی سفیروں نے آخری رسومات سے قبل متعدد حکومتوں سے رابطہ کر کے انہیں تقریب میں شریک نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’جمہوریہ ہند میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سفارت خانہ ہندوستان کی دوست حکومت اور عوام، بالخصوص سرکاری وفد، کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے جس نے جنازے کی تقریبات میں شرکت کر کے شہید رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی عوام اس جذبۂ دوستی، ہمدردی اور احترام کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور اسے ایران اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم بنیاد سمجھتے ہیں۔ آخری رسومات میں ہندوستان کی نمائندگی وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین نے کی، جبکہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید بھی تہران میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے۔ ایرانی سفارت خانے نے کہا کہ ہندوستانی سیاسی لیڈرؤں، ارکان پارلیمنٹ، علماء، دانشوروں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات کی موجودگی دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور انسانی رشتوں کی عکاس ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: ہرغیرملکی وفد کی حاضری کے وقت قرآن کی الگ الگ آیتوں کی تلاوت

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے بعض ممالک کو متنبہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی تو اسے واشنگٹن ایک ’’غیر دوستانہ اقدام‘‘ تصور کر سکتا ہے، جس کے ان کے دوطرفہ تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ ممالک کو امریکی ترقیاتی امداد میں ممکنہ کمی کی دھمکی دی گئی، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مبینہ طور پر کم از کم پانچ عرب ممالک کے لیڈرؤں سے براہِ راست رابطہ کر کے انہیں تقریب میں شرکت سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
تسنیم کے مطابق، ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کم از کم ۱۳؍ ممالک نے یا تو اپنی شرکت منسوخ کر دی یا اپنے وفود کی سطح کم کر دی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان ممالک میں تین مشرقی یورپی، پانچ افریقی، دو خلیجی عرب ریاستیں اور دو بڑے مشرقی ایشیائی ممالک شامل تھے۔ تاہم، امریکہ نے ان الزامات پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل یا تبصرہ جاری نہیں کیا۔ یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ۲۸؍ فروری کو ایرانی حکام کے مطابق امریکی اسرائیلی فضائی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد ایران میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے آخری رسومات کے موقع پر کہا کہ یہ تقریب صرف خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے نہیں بلکہ ان کے نظریات اور راستے کو جاری رکھنے کے عزم کی تجدید ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ یہ شہر تارکینِ وطن نے تعمیر کیا ہے

انہوں نے کہا کہ ’’میں ’الوداع‘ کی تعبیر کو قبول نہیں کرتا۔ یہ الوداع نہیں بلکہ ان کے راستے کو جاری رکھنے کا عہد ہے۔‘‘ صدر پیزشکیان نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر خطے کو جنگ کے ذریعے نئی شکل دینے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تنازع نے مسلم دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے۔ دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق تہران میں خامنہ ای کی وفات پر سات روزہ سرکاری سوگ کا آغاز جمعہ سے کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK