امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے تیل کی ناکہ بندی کے سبب کیوبا میں ایندھن کا بحران پیدا ہوگیا ہے، اس سے قبل امریکہ نے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
EPAPER
Updated: January 31, 2026, 6:11 PM IST | Havana
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے تیل کی ناکہ بندی کے سبب کیوبا میں ایندھن کا بحران پیدا ہوگیا ہے، اس سے قبل امریکہ نے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
واشنگٹن نے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک کو نشانہ بنایا ہے اس وجہ سے پیٹرول سٹیشن پر لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ کیوبا کے دارالحکومت میں لوگ ایندھن کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں، جبکہ حکومت نے ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ تیل سے متعلق نئے اقدامات کے بعد امریکہ کی طرف سے جزیرے کی پہلے سے ہی کمزور معیشت پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔ ٹرمپ کے ممالک پر سزا وار ٹیرف منظور کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہوانا میں ایندھن اسٹیشن پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ ہوانا نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو معیشت کا گلا گھونٹنے کی کوشش قرار دیا، جو پہلے سے ہی روزانہ۲۰؍ گھنٹوں تک بجلی کی کٹوتیوں، ایندھن، ادویات اور خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ حکم کیوبا کے شراکت داروں کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ تجارت یا ۱۱؍ ملین آبادی والے جزیرے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ، کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کریں گے
کیوبا کے صدر مائیگل ڈیاز کینل نے امریکہ کے اس گروہ کو ’’فاشسٹ، مجرمانہ اور نسل کش‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ملک کاگلا گھونٹنے‘‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں تک کیوبا کی معیشت سستےوینزویلا تیل کی فراہمی پر انحصار کرتی تھی، جو اس سال کے شروع میں امریکیوں کی جانب سے وینزویلا کے صدر مادورو کی حراست کے بعد کم ہو گئی ہے۔بعد ازاں ٹرمپ اور ان کے کیوبائی نژاد امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ہوانا میں حکومت کی تبدیلی کا کھلے عام مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناءوینزویلا کی قیادت کے خاتمے کے بعد ٹرمپ نے کیوبا کو جلد معاہدہ کرنے کی تنبیہ کی اور اعلان کیاکہ ،’’کیوبا کے لیے مزید نہ تیل اور نہ پیسہ: زیرو،‘‘ساتھ ہی اس حکم نامے میں کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ’’غیر معمولی خطرہ‘‘ قرار دیا گیا ہے، اور اس پر دشمن ریاستوں اور عسکری گروہوں سے روابط کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا پہلی بار اعتراف، غزہ میں ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید
واضح رہے کہ ۲۰۲۵ء کے آخر سے امریکہ نے کیریبین میں بحری اثاثے برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ جبکہ یہ اقدام خاص طور پر میکسیکو کے لیے چیلنج پیدا کر رہا ہے، جو کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے چند ممالک میں سے ایک ہے۔ میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤم نے خبردار کیا کہ ’’یہ ٹیرف ایک وسیع پیمانے پر انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں، جو اسپتالوں اور خوراک کی فراہمی کو متاثر کرے گا۔‘‘ اسی اثناء میں وینزویلا اور چین نے واشنگٹن کے اقدامات کی مذمت کی اور کیوبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، لیکن کوئی ٹھوس مدد پیش نہیں کی۔