• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہزاروں امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات، خلیج ہرمز میں ایران کی فوجی مشقیں شروع، واشنگٹن چراغ پا

Updated: January 31, 2026, 7:16 PM IST | Tehran/Washington

ایران کے ساتھ بڑھتے تناؤ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان، واشنگٹن نے اسرائیل اور سعودی عرب کو مجموعی طور پر ۱۵ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے سودوں کی منظوری دے دی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت میں بڑے پیمانے پر اضافہ کررہا ہے۔ امریکی میڈیا نے محکمہ جنگ کے حوالے سے بتایا کہ پورے خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۵۰ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے ساتھ اضافی لڑاکا طیارے، میزائل دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے بھی موجود ہیں جنہیں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ محکمہ جنگ نے ان اڈوں پر ’پیٹریاٹ‘ اور ’تھاڈ‘ (THAAD) فضائی دفاعی نظام کو بھی مضبوط کیا ہے جہاں امریکی اہلکار مقیم ہیں، تاکہ کسی تنازع کی صورت میں ایران کے ممکنہ جوابی میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس فوجی اجتماع کو احتیاطی تدبیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس خطے میں ”صرف ضرورت پڑنے کی صورت کیلئے ایک طاقتور بیڑا“ موجود ہے۔ واشنگٹن تہران کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: محکمہ انصاف نے ۳۰؍ لاکھ صفحات جاری کئے، ٹرمپ، مسک، گیٹس سمیت کئی طاقتور افراد شامل

یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں بحری افواج آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر پہنچ گئیں

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ اور اس کی قیادت میں حملہ آور جہازوں کا ایک گروپ، مغربی بحرِ ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ بحری جہاز، جس کے ساتھ گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز (جو ٹومہاک کروز میزائلوں سے لیس ہیں) موجود ہیں، اب ایران سے تیز رفتار حملے کی دوری پر پوزیشن سنبھال چکا ہے۔

امریکی حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وہائٹ ہاؤس کے حکم پر ’ابراہم لنکن‘ ۲۴ سے ۴۸ گھنٹوں کے اندر جنگی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے گرد و نواح میں اس بحری جہاز کی موجودگی واشنگٹن کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ دنیا کی سب سے اہم توانائی کی گزرگاہوں میں سے ایک کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ نے بارہا اس بحری تعیناتی کو ایک ”آرماڈا“ (بحری بیڑا) قرار دیا ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں ۲۵ تک جنگی جہاز شامل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اعداد و شمار غیر واضح ہیں، لیکن اس کی علامتی اہمیت تہران سے پوشیدہ نہیں ہے، جو آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹجک ریڈ لائن (سرخ لکیر) سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے کیلئے اسرائیل امریکہ کو اکسا رہا ہے، ترک وزیرخارجہ کا دعویٰ

ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کر دیں، واشنگٹن کا سخت انتباہ

امریکی فوج کے اجتماع کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح میں فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ اس تنگ آبی راستہ سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً بیس فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں جن کا مقصد کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ 

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے استنبول کے دورے کے دوران کہا کہ ایران سفارت کاری اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”جس طرح ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ہم جنگ کیلئے بھی تیار ہیں۔ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔“

دریں اثنا، واشنگٹن نے تہران کو جہاز رانی کے راستوں میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔ امریکی حکام نے بیان دیا کہ وہ ایران کی مشقوں کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف خطرات کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ یکم فروری سے کھول دی جائے گی: اسرائیل کا اعلان؛ مصر کے ساتھ نئے حفاظتی طریقہ کار پر اتفاق

صدر ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی پیشکش، جوہری و دیگر تنازعات پر معاہدے پر زور دیا

فوجی کارروائی کی دھمکی دینے کے باوجود، ٹرمپ کے بقول وہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ امریکی صدر نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ایک نئے معاہدے پر گفتگو کیلئے ”مذاکرات کی میز پر آئے۔“ ٹرمپ کے مجوزہ معاہدے کو بڑے پیمانے پر ۲۰۱۵ء کے ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن‘ (JCPOA) کے سخت ورژن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے ان کی انتظامیہ نے ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ترک کر دیا تھا۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی میں نمایاں کمی کرے، جوہری ہتھیار نہ بنائے، اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرے اور مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی مسلح گروپس کی حمایت کم کرے۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ صرف تہران کو ہی اس ڈیڈ لائن (مہلت) کا علم ہے جو انہوں نے طے کی ہے۔“ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کن فوجی متبادلات پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ”منصفانہ مذاکرات“ پر راضی ہوگا اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تہران نے ان مذاکرات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جنہیں وہ دھمکیوں اور ڈرانے دھمکانے کے تحت کی جانے والی کوشش قرار دیتا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران اس وقت تک امریکہ سے براہِ راست گفتگو نہیں کرے گا جب تک ٹرمپ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینا بند نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ”ایران کے میزائل اور دفاعی نظام کبھی بھی کسی مذاکرات کا موضوع نہیں بنیں گے۔ مذاکرات ”منصفانہ، متوازن اور جبر سے پاک“ ہونے چاہئیں۔

ترکی، قطر اور عمان سمیت کئی ممالک ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے جمعہ کو ٹیلی فون پر گفتگو کی اور امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے اور سفارت کاری کو بحال کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی بچی ہند رجب کی دوسری برسی: خاندان آج بھی انصاف کا منتظر

امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کو ۱۵ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرے گا

ایران کے ساتھ بڑھتے تناؤ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان، واشنگٹن نے اپنے اہم علاقائی اتحادیوں کو جدید ہتھیار فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کو مجموعی طور پر ۱۵ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے سودوں کو منظوری دی ہے۔

ان معاہدوں کے تحت، واشنگٹن سعودی عرب کو تقریباً ۹ ارب ڈالر مالیت کے ’پیٹریاٹ‘ میزائل اور اس سے متعلقہ دفاعی نظام فروخت کرے گا۔ اس کا مقصد علاقائی خطرات کے خلاف اس کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل کو چار علیحدہ پیکجز کے تحت ۶۷ء۶ ارب ڈالر کے فوجی سازوسامان کی فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں جدید ٹارگیٹنگ سسٹم کے حامل ۳۰ ’اپاچی‘ حملہ آور ہیلی کاپٹر، ہزاروں ہلکی ٹیکٹیکل گاڑیاں، بکتر بند اہلکار بردار گاڑیوں کیلئے پاور سسٹمز اور ہلکے یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کے ان معاہدوں سے علاقائی فوجی توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کا مقصد دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا اور امریکی و اتحادی افواج کی حفاظت کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بارسلونا: سابق ہسپانوی فٹبالر پیپ گارڈیالا نے کیفیہ پہنا، فلسطین کیلئے جذباتی خطاب

عرب ممالک کی دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل

کشیدگی میں اضافے کے خدشات کے درمیان عرب ممالک نے امریکہ اور ایران سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان نے فوجی محاذ آرائی کے خلاف خبردار کیا اور سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔

متحدہ عرب امارات نے اعادہ کیا کہ وہ اپنی فضائی حدود، سرزمین یا سمندری حدود کو ایران کے خلاف مخالفانہ کارروائیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ علاقائی لیڈران کو خدشہ ہے کہ امریکہ ایران جنگ معیشتوں کو تباہ کر دے گی، توانائی کی سپلائی میں خلل ڈالے گی اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو فروغ دے گی۔

یورپی یونین نے بھی تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تناؤ کو بڑھا سکیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

”یورپی افواج کو ایرانی قانون کے تحت ”دہشت گرد“ قرار دیا جا سکتا ہے“

یورپی یونین نے ایران کی ’سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی‘ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد ایران کے سیکوریٹی چیف علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ یورپی افواج کو ایرانی قانون کے تحت ”دہشت گرد تنظیمیں“ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لاریجانی نے کہا کہ ایران کی پارلیمنٹ پہلے ہی ایک قرارداد منظور کر چکی ہے جس کے تحت مخالفانہ اقدامات کے جواب میں ایسی نامزدگیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی ممالک اپنے فیصلے کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ ایران نے یورپی یونین پر تناؤ بڑھانے اور امریکی دباؤ کے مطابق کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ اس اقدام کے سنگین علاقائی اثرات ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل دنیا میں صحافیوں کو قید کرنے والا تیسرا بدترین ملک: پریس فریڈم گروپ

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا

اسی دوران، اسرائیل نے ایران حامی مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں اس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج نے زہرانی کے قریب واقع علاقوں اور دیگر دیہی خطوں پر متعدد فضائی حملے کئے۔ لبنانی حکام نے بتایا کہ ان حملوں کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسرائیلی فوج نے بیان دیا کہ وہ ”حزب اللہ کے انفراسٹرکچر سائٹس“ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ایران کے اتحادی، حزب اللہ پہلے ہی وارننگ دے چکا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ لبنان میں اسرائیل کی مہم ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ایران کے علاقائی اتحادیوں کو کمزور کرنا ہے۔ اسرائیلی حکام کا استدلال ہے کہ طویل مدتی علاقائی استحکام کیلئے ان گروپوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK