Updated: August 31, 2026, 4:10 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کنیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے درمیان کینیڈین کمپنیوں سے کہا ہے کہ جو کمپنیاں امریکہ کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں، وہ فوری طور پر اپنی سرگرمیاں امریکہ منتقل کرلیں ۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ منتقل ہونے والی کینیڈین کمپنیوں کو امریکی محصولات سے بچنے کا فائدہ حاصل ہوگا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کنیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے درمیان کینیڈین کمپنیوں سے کہا ہے کہ جو کمپنیاں امریکہ کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں، وہ فوری طور پر اپنی سرگرمیاں امریکہ منتقل کرلیں ۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ منتقل ہونے والی کینیڈین کمپنیوں کو امریکی محصولات (Tariffs) سے بچنے کا فائدہ حاصل ہوگا۔
ٹرمپ نے ۳۰؍ اگست کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے والی تمام کینیڈین کمپنیوں کو فوری طور پر امریکہ منتقل ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی کمپنیاں ماضی میں امریکی قیادت کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ سے باہر منتقل ہوئی تھیں اور اگر وہ واپس آتی ہیں تو ان پر ٹیرف عائد نہیں ہوگا ۔ ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکہ کے لیے ایک بڑا تجارتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کنیڈا کئی دہائیوں سے امریکہ کا معاشی استحصال کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ صورتحال ختم ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:میوزک ڈائریکٹر کھیم چند پرکاش کی پانچویں دہائی میں فلم سنگیت پر حکمرانی تھی
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے تقریباً ۲۰؍ ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین درآمدات پر ۵۰؍ فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جبکہ کنیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو ۸؍ ستمبر سے نافذ ہونے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے کینیڈین گاڑیوں، آٹو پارٹس، ٹرکوں اور اسٹیل پر ۵۰؍ فیصد ٹیرف یکم جنوری ۲۰۲۷ء سے عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کی آٹو انڈسٹری پر خاصا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ کی پالیسی کا مقصد کینیڈین کمپنیوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری اور پیداوار منتقل کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کی معیشتیں انتہائی گہری سطح پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، خاص طور پر آٹو موبائل، توانائی، اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو پارٹس کے شعبوں میں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ اور کنیڈا کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً ۸۷۲؍ ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ کنیڈا امریکہ کو بڑی مقدار میں خام تیل، ایلومینیم، پوٹاش اور آٹو پارٹس فراہم کرتا ہے، اس لیے تجارتی جنگ کا اثر صرف کنیڈا ہی نہیں بلکہ امریکی صنعت اور صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مارچ ۲۰۲۷ء سے ملک کے تمام اداروں میں ’آئی ایس ٹی‘ پر عمل درآمد لازمی
کینیڈین حکومت نے ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود اپنے صنعتی شعبوں، خصوصاً آٹو موبائل اور اسٹیل صنعت کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نئے تجارتی معاہدے میں کنیڈا کی صنعتی بنیاد اور اقتصادی خودمختاری کا تحفظ ضروری ہے۔ دوسری جانب کنیڈا نے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف کی تیاری کرلی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ دنیا کی دو بڑی پڑوسی معیشتوں کے درمیان تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔