فنانشل ٹائمز کے تازہ سروے میں صرف ۳۳؍ فیصد امریکی ووٹروں نے ٹرمپ کی کارکردگی کی تائید کی، ۵۷؍ نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں ان کی مالی حالت خراب ہوئی، جبکہ تقریباً دو تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ معیشت غلط سمت میں جارہی ہے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 9:57 PM IST | Washington
فنانشل ٹائمز کے تازہ سروے میں صرف ۳۳؍ فیصد امریکی ووٹروں نے ٹرمپ کی کارکردگی کی تائید کی، ۵۷؍ نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں ان کی مالی حالت خراب ہوئی، جبکہ تقریباً دو تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ معیشت غلط سمت میں جارہی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے تقریباً ۲؍ ماہ قبل ایک اور نئی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فنانشیل ٹائمز اور فوکل ڈیٹا کے تازہ سروے میں صرف ۳۳؍ فیصد رجسٹرڈ ووٹروں نے ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی کی منظوری دی، جو مئی میں اس سوال پر سروے شروع ہونے کے بعد سب سے کم شرح ہے۔ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ٹرمپ کی مقبولیت میں ۳؍ فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سروے کے مطابق امریکی عوام میں معاشی حالات اور روزمرہ اخراجات پر بڑھتی تشویش ٹرمپ کی گرتی مقبولیت کی بڑی وجہ ہے۔ ۵۷؍ فیصد ووٹروں نے کہا کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ان کی مالی حالت پہلے سے خراب ہوئی ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی نے کہا کہ امریکی معیشت غلط سمت میں جارہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات اور ٹیرف کی پالیسی کو بھی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر امریکی حمایت کے خلاف ٹرمپ کی سابق حلیف مار جوری ٹیلر گرین برہم
ریپبلکن ووٹروں میں بھی معاشی پالیسی پر اطمینان کم ہوا ہے۔ صرف ۵۳؍ فیصد ریپبلکن ووٹروں نے روزگار اور معیشت سے متعلق ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت کی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً ۸؍ فیصد پوائنٹس کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی دباؤ کا اثر صرف ڈیموکریٹ ووٹروں یا آزاد ووٹروں تک محدود نہیں بلکہ صدر کی اپنی جماعت کے حامی بھی اس معاملے پر پہلے سے زیادہ ناخوش ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے بھی ٹرمپ کی سیاسی مشکلات بڑھائی ہیں۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں امریکیوں کی بڑی تعداد نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی کو مسترد کیا ہے۔ رائٹرس کے اگست کے سروے میں بھی ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت ۳۳؍ فیصد رہی، جو مسلسل ۳؍ سروے میں یہی سطح تھی، جبکہ ایران جنگ اور معیشت کو ان کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا۔
جنگ کے معاشی اثرات خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں نظر آرہے ہیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت جمعہ کو ریکارڈ ۸۵ء۵؍ ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے امریکی صارفین پر بھی ایندھن کے بڑھتے اخراجات کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس دوران ایران کے ساتھ جاری فوجی کارروائی کو مکمل جنگ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے اسے ’’چھوٹا معاملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی کم ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ نئی پائپ لائنز، بحری راستے اور زمینی ذرائع مستقبل میں اس اہم آبی گزرگاہ کا متبادل بن سکتے ہیں۔ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ مؤقف عالمی توانائی منڈیوں میں بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کروشیا: ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ہٹانے میں تاخیر پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاج
تازہ فنانشیل ٹائمز سروے میں ڈیموکریٹس کو انتخابی میدان میں بھی برتری حاصل ہوئی ہے۔ قومی سطح پر ووٹرز کے انتخاب کے سوال میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو ریپبلکن امیدواروں پر ۵ء۷؍ فیصد پوائنٹس کی برتری ملی، جو گزشتہ ماہ کے ۵؍ پوائنٹس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے آزاد ووٹر ٹرمپ کی حمایت کو اپنے امیدوار کے لیے فائدے کے بجائے نقصان سمجھتے ہیں۔ تاہم تمام حالیہ سروے ٹرمپ کی مقبولیت میں یکساں کمی نہیں دکھاتے۔ ہاوروڈ کیپپس/ ہیرس کے اگست کے سروے میں ٹرمپ کی مجموعی منظوری ۴۴؍ فیصد رہی، جو جولائی سے ۲؍ فیصد پوائنٹس زیادہ تھی، جبکہ ممکنہ وسط مدتی ووٹروں میں ریپبلکنز کو ۲؍ فیصد پوائنٹس کی معمولی برتری حاصل تھی۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف سروے طریقۂ کار اور نمونے کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت کی تصویر مکمل طور پر یکساں نہیں ہے۔
اس کے باوجود کئی تازہ جائزوں میں صدر کے لیے ایک مشترک مسئلہ سامنے آرہا ہے: معیشت، مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں اور ایران جنگ۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے ان مسائل پر ووٹروں کے بڑھتے عدم اطمینان کا سامنا کرنا ہوگا۔