Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیسری عالمی جنگ یا جوہری جنگ کی صورت میں ٹرمپ محفوظ تنصیبات میں منتقل ہوسکتے ہیں

Updated: March 07, 2026, 1:09 PM IST | Washington

امریکی حکومت نے ایسی محفوظ تنصیبات تیار کر رکھی ہیں جہاں کسی بڑی جنگ یا قومی ہنگامی صورتحال کے باعث معمول کی حکمرانی میں خلل پڑنے کی صورت میں صدر اور اہم حکام منتقل ہوسکتے ہیں اور وہاں سے ملک پر کنٹرول برقرار رکھ سکتے ہیں۔

Trump And Top US Officials. Photo: X
ٹرمپ اور اعلیٰ امریکی حکام۔ تصویر: ایکس

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان، امریکی انتظامیہ کی توجہ دوبارہ ان ہنگامی متبادل منصوبوں پر مرکوز ہوگئی ہے جو کسی تباہ کن بحران حتیٰ کہ جوہری جنگ، کے دوران ملک کے نظام کو فعال رکھنے کے مقصد سے تیار کئے گئے ہیں۔ ’کنٹینوئٹی آف آپریشنز پلان‘ (سی او او پی) کے تحت، امریکی حکومت نے ایسی محفوظ تنصیبات تیار کر رکھی ہیں جہاں کسی بڑی جنگ یا قومی ہنگامی صورتحال کے باعث معمول کی حکمرانی میں خلل پڑنے کی صورت میں صدر اور اہم حکام منتقل ہوسکتے ہیں اور وہاں سے ملک پر کنٹرول برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد، قومی دفاع، معاشی استحکام اور عوامی تحفظ جیسے ضروری امور پر انتہائی نامساعد حالات میں بھی گرفت برقرار رکھنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ہنگامی اقدامات صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سینئر مشیروں کے ایک چھوٹے گروپ کو سرد جنگ کے دوران بنائے گئے قلعہ نما زیرِ زمین بنکروں سے کام کرنے کی اجازت دیں گے۔ یہ مقامات بڑے فوجی حملوں کو برداشت کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں اور فوجی کمانڈز اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ محفوظ مواصلاتی روابط برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں ۵۶؍ افغان شہریوں کی موت

سرد جنگ کے دوران بنائے گئے بنکرز اب بھی فعال ہیں

ہنگامی منصوبے میں تین تنصیبات، ماؤنٹ ویدر ایمرجنسی آپریشنز سینٹر، ریوین راک ماؤنٹین کمپلیکس اور شاین ماؤنٹین کمپلیکس کو کلیدی مقامات کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ ورجینیا میں واقع ماؤنٹ ویدر ایمرجنسی آپریشنز سینٹر ’فیڈرل ایمرجنسی منیجمنٹ ایجنسی‘ (ایف ای ایم اے) کے زیرِ انتظام ہے اور یہ ۱۹۷۰ء کی دہائی کے آخر سے ہنگامی کمانڈ کے مرکزی مقام کے طور پر سرگرم ہے۔ جدید مواصلاتی انفراسٹرکچر سے لیس اس مرکز سے متعدد وفاقی ایجنسیوں کی مدد کی جا سکتی ہے اور قومی سطح کی ہنگامی صورتحال کے دوران صدر کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھی جاسکتی ہے۔

پینسلوانیا میں واقع ریوین راک ماؤنٹین کمپلیکس محکمہ دفاع کے ضروری فوجی امور کو سہارا دینے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ دفاعی قیادت کے لئے متبادل کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کر سکتا ہے اور اسے آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کے لئے برسوں کے دوران نمایاں فنڈنگ فراہم کی گئی ہے۔

دریں اثنا، کولوراڈو میں واقع شاین ماؤنٹین کمپلیکس، جو کسی زمانے میں ’نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ‘ کا ہیڈ کوارٹر تھا، ایک پہاڑ کی گہرائی میں بنایا گیا ہے۔ یہ کمپلیکس جوہری دھماکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تنصیب میں جدید ترین نگرانی اور مواصلاتی نظام موجود ہیں جو شمالی امریکہ کی فضائی حدود کی نگرانی کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

اگرچہ یہ بنکرز اصل میں بیسویں صدی کے دوسرے نصف کےدرمیاں روس کے ساتھ سرد جنگ کے دوران تعمیر کئے گئے تھے، لیکن انہیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مسلسل بہتر بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ تنصیبات محفوظ ماحول فراہم کرکے اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ شدید ترین قومی سلامتی کے بحران کے دوران بھی حکومتی کام کاج جاری رہ سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK