Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: لی اینڈرسن اور زارہ سلطانہ وزیراعظم کو’’جھوٹا‘‘ کہنے پر پارلیمنٹ سے باہر

Updated: April 21, 2026, 9:06 PM IST | London

برطانیہ میںلی اینڈرسن اور زارہ سلطانہ کو وزیراعظم کو’’جھوٹا ‘‘کہنے پر پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا گیا، جبکہ زرہ سلطانہ کو ہاؤس آف کامن سے معطل کر دیا گیا ہے۔

British Member of Parliament Zara Sultana- Photo: X
برطانوی رکن پارلیمان زارہ سلطانہ ۔ تصویر: ایکس

دو برطانوی اراکین پارلیمنٹ کو ہاؤس آف کامن سے اس وقت نکال دیا گیا جب انہوں نے وزیراعظم کیئرا سٹارمر پر دروغ گوئی کا الزام عائد کیا۔ واضح رہے کہ ’’ریفارم یوکے ‘‘کے لی اینڈرسن اور ’’یور پارٹی ‘‘کی زارہ سلطانہ کو پارلیمنٹ سے اس وقت نکالا گیا جب انہوں نے امریکہ میں سابق برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیلسن کی تقرری سے متعلق ایک بیان کے دوران وزیراعظم اسٹارمر پر دروغ گوئی کا الزام لگایا۔واضح رہے کہ، مینڈیلسن کو ان کے عہدے سے اس وقت ہٹا دیا گیا جب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین دستاویزات میں ان پر بدنام اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا الزام لگایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ہنگری کے نو منتخب وزیرِاعظم کا سخت مؤقف، نیتن یاہو کے دورے پر گرفتاری کا عندیہ

بعد ازاں پیر کے اجلاس کے دوران اینڈرسن نے کہا، ’’وزیراعظم کو جس مسئلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ان پر یقین نہیں کرتا۔ عوام ان پر یقین نہیں کرتے۔ ایوان کے اس طرف موجود ارکان ان پر یقین نہیں کرتے۔ ان کے اپنے بھولے ہوئے پچھلی نشستوں کے ارکان بھی ان پر یقین نہیں کرتے۔ تو کیا وزیراعظم مجھ سے متفق ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں؟‘‘اسپیکر لنڈسے ہوئل نے فوری طور پر مداخلت کی اور ان سے اپنے الفاظ واپس لینے کو کہا، تاہم ریفارم کن پارلیمان نے انکار کرتے ہوئے کہا،’’میں یہ الفاظ واپس نہیں لوں گا۔ ‘‘انہیں ایوان سے جانے کہا گیا۔
بعد ازاں اجلاس میں کن پارلیمان زارہ سلطانہ نے وزیراعظم کو ’’واضح جھوٹا‘‘ قرار دیا اور ان پر قوم کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔جس کے بعد اسپیکر نے انہیں جانے کو کہا لیکن انہوں نے رہنے پر اصرار کیا۔ بعد میں، ارکان نے جنرل کچن کی طرف سے پیش کردہ تحریک کے حق میں ووٹ دیا جس کے تحت سلطانہ کو ایوان کی خدمات سے معطل کر دیا گیا۔معطلی نے ان کے حوصلے پست نہیں کیے، بلکہ انہوں نے وزیراعظم ا سٹارمر پر اپنا موقف دہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں سلطانہ نے لکھا، ’’کیئر اسٹارمر ایک واضح جھوٹا ہے اور اگر اس میں کوئی شرافت ہے تو وہ استعفیٰ دے دے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ : عام انتخابات میں سابق صدر رادیف کی پارٹی کو بڑی کامیابی، وزیراعظم بننا یقینی

واضح رہے کہ یہ معطلی۲۰۲۲ء کے بعد برطانوی پارلیمنٹ میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ دراصل ہاؤس آف کامن کے قوانین اراکین کو ایک دوسرے پر دروغ گوئی یا جان بوجھ کر گمراہ کرنے کا الزام عائد کرنے سے منع کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK