Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرکاش راج ’’رامائن‘‘ پر تبصرے کے بعد تنازع کا شکار، قانونی کارروائی کا مطالبہ

Updated: April 21, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai

پرکاش راج ایک نئے تنازع میں گھر گئے ہیں۔ چند دنوں قبل ’’رامائن‘‘ سے متعلق ان کے بیانات پر بھانو پرکاش نے شکایت درج کرائی ہے۔ اداکار پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ حکام نے ابھی تک کسی باضابطہ کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔

Prakash Raj. Photo: INN
پرکاش راج۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار پرکاش راج ایک بار پھر تنازع کے مرکز میں آ گئے ہیں، اس بار ان کے ’’رامائن‘‘ سے متعلق تبصروں نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب آندھرا پردیش کے بی جے پی لیڈر اور ٹی ٹی ڈی بورڈ کے رکن بھانو پرکاش نے اداکار کے خلاف باضابطہ شکایت درج کروائی۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ پرکاش راج نے رامائن کی کہانی کو ’’توڑ مروڑ کر‘‘ پیش کیا اور ایسے تبصرے کیے جو ہندو برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پریہ درشن کی نئی کامیڈی فلم کا اعلان، انو کپور،پنکج ترپاٹھی، سوربھ شکلا ایک ساتھ

واضح رہے کہ یہ معاملہ جنوری میں شروع ہوا تھا جب اداکار نے کیرالہ لٹریچر فیسٹیول کے ایک سیشن میں شرکت کے دوران رامائن کا ایک متبادل اور طنزیہ انداز میں بیان کیا۔ اس بیان میں انہوں نے روایتی کرداروں کو جدید تناظر میں پیش کیا، جس میں جی ایس ٹی جیسے عناصر شامل کیے گئے، جسے ناقدین نے مذہبی داستان کی توہین قرار دیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید بڑھ گیا، اور ۱۶؍ اپریل کو ایڈوکیٹ امیت سچدیوا نے بھی ایک علیحدہ شکایت درج کرائی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اداکار کے ریمارکس ’’جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی‘‘ ہیں اور ان کا مقصد مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پرشانت نیل اور جونیئر این ٹی آر کی فلم ۱۱؍ جون ۲۰۲۷ء کو ریلیز ہوگی

سیاسی سطح پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں شکایت کنندگان نے نہ صرف پرکاش راج بلکہ ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایسے بیانات کی حمایت یا حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس تنازع نے ایک بار پھر آزادیٔ اظہار اور مذہبی حساسیت کے درمیان توازن پر بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک طبقہ اسے تخلیقی آزادی قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا اسے عقائد کی توہین کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
تاحال حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مقدمہ درج ہونے یا قانونی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اس معاملے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK