امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں ذاتی طور پر شامل ہونا چاہتے ہیں اور خامنہ ای کے بیٹے کو اس عہدے کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 7:31 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں ذاتی طور پر شامل ہونا چاہتے ہیں اور خامنہ ای کے بیٹے کو اس عہدے کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔
خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس تقرری میں شامل ہونا ہے، جیسے وینزویلا میں ڈیلسی روڈریگز کے معاملے میں تھا۔ انہوں نے مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو’’غیر اہم‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جو اس عہدے کے لیے اہم امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھنے والے کسی بھی جانشین کو قبول نہیں کریں گے، ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایسا انتخاب پانچ سال میں امریکہ کو دوبارہ جنگ میں دھکیل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں ہم آہنگی اور امن لائے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سنیچر کو امریکی اسرائیلی مشترکہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت درجنوں ایرانی حکام کی ہلاکت کے بعد ایران میںنیا سپریم لیڈر منتخب کیا جانا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے، خامنہ ای کے سب سے بااثر بیٹے سمجھے جاتے ہیں اور ان پر۲۰۱۹ء میں امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ وہ۲۰۰۹ء کے انتخابات کے بعد احتجاج کچلنے والی بسیج فورس سے بھی منسلک رہے ہیں۔ایرانی آئین کے مطابق، نئے رہبر کا انتخاب ۸۸؍رکنی آئین دانوں کی اسمبلی کرتی ہے، جبکہ عبوری دور میں ایک عارضی کونسل قیادت سنبھالتی ہے۔
دوسری جانب ایران کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی دخل اندازی نے یورپ کے دیگر ممالک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے، اس سے قبل اسپین کی جانب سے امریکہ کو ایران پر حملے کیلئے اپنے ہوائی اڈے نہ دینے کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے تجارت معطل کرنے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد کئی قانون سازوں نے یورپ کے دیگر ممالک سے یورپی اتحاد کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی قانون کا دفاع کرنے کا مطالبہ کیا ہے،اسپینی رکن یورپی پارلیمان (ایم ای پی) ہانا جلول نے کہا کہ اسپین کا ایران پر امریکی حملوں کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار پختہ، قانونی اور ذمہ دارانہ موقف ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔جلول نے ٹرمپ کی تجارت ختم کرنے کی دھمکی کو نا قابل قبول جبرقرار دیا اور یورپی اتحاد پر زور دیا کہ وہ ٹھوس قانونی، سفارتی اور اقتصادی اقدامات کے ذریعے یکجہتی کا اظہار کرے۔ایک اور اسپینی قانون ساز ایسٹریلا گیلان نے زور دے کر کہا کہ اسپین بلیک میل قبول نہیں کرے گا اور جنگ کے حق میں نہیں ہے۔‘‘