• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میئر کے عہدہ کیلئے رسہ کشی، شندے نے آنکھیں دکھائیں

Updated: January 19, 2026, 10:00 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ڈھائی سال کیلئے عہدہ پر اپنی پارٹی کا دعویٰ پیش کیا۔ اُدھو ٹھاکرے نے بھی یہ کہہ کر ہلچل مچادی کہ بھگوان نے چاہاتو ان کی پارٹی کو بھی اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔

The tussle for the mayor`s post is another example of the clash between Chief Minister Devendra Fadnavis and Deputy Chief Minister Shinde. Picture: INN
میئر کے عہدہ کیلئے رسہ کشی وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس اور نائب وزیراعلیٰ شندے کے درمیان ٹکراؤ کی ایک اور مثال ہے۔ تصویر: آئی این این
 بی ایم سی الیکشن  میں بی جےپی اور شیوسینا (شندے) پر مشتمل  مہایوتی  کو واضح اکثریت ملنے  کے  بعد یہ دعویٰ کیا جارہاتھا کہ شہر میں بی جےپی کے پہلے میئر کا راستہ صاف ہوگیاہےمگرنائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے ۲۹؍  کارپوریٹرس کو ہوٹل میں منتقل کرکے شہ اور مات کا کھیل شروع کردیا ہے۔ انہوں نے زعفرانی پارٹی کو جس طرح  آنکھیں  دکھانی شروع کردی ہیں اس کےبعد ممبئی میں اپنے میئر کا بی جےپی کا خواب فوراً شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ ایکناتھ شندے نے مطالبہ کیا ہے کہ میئر کا عہدہ دونوں اتحادی پارٹیاں ڈھائی ڈھائی سال کیلئے آپس میں تقسیم کریں۔ واضح  رہے کہ اسی ماہ ۲۳؍ جنوری کو بال ٹھاکرے کی ۱۰۰؍ ویں سالگرہ منائی جائے گی اور ایکناتھ شندے اس موقع پر ممبئی  میں شیوسینا کا میئر چاہتے ہیں۔ 
 بی جےپی سب سے بڑی پارٹی مگر اکثریت سے محروم
واضح رہے کہ ۲۲۷؍ رکنی برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن  میں  میئر کے عہدہ پر قبضہ کیلئے ۱۱۴؍ کارپوریٹروں کی حمایت ضروری ہے۔  ۱۵؍ جنوری کو ہونےوالے الیکشن میں بی جےپی  ۸۹؍ کارپوریٹرس کے ساتھ  سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہی جبکہ شیوسینا(شندے) نے ۲۹؍ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔حالانکہ بی جےپی اور شیوسینا (شندے) نے متحد ہوکر الیکشن لڑا ہے اور دونوں کی کل سیٹیں  ۱۱۸؍ ہیں جو میئر کے عہدہ کیلئے درکار تعداد سے کہیں زیادہ ہے مگر نتائج آتے ہی ایکناتھ شندے نے اپنے کارپوریٹروں کو باندرہ کے فائیو اسٹار ہوٹل میں منتقل کرکے جو چال چلی ہے اس نے زعفرانی پارٹی کو بھی حیران کردیا ہے۔  ماہرین کے مطابق وزارت اعلیٰ سےمحروم  رہ جانےوالے ایکناتھ شندے زعفرانی پارٹی کو میئر کے عہدہ پر  جھکانے کی پوری کوشش کریں گے۔اس دوران انہیں خطرہ ہے کہ جس طرح بی جےپی نے انہیں اُدھو ٹھاکرے سے توڑ لیا تھا اسی طرح وہ ان کے کارپوریٹرس کو بھی ان سے توڑ سکتی ہے،اس لئے آئندہ کئی دنوں  (میئر کے عہدہ پر کسی فیصلے) تک  تمام ۲۹؍ کارپوریٹروں کو ہوٹل میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ 
بی جےپی کو ڈھائی ڈھائی سال کا فارمولہ ناقابل قبول
اس بیچ بی جےپی   کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کو ڈھائی ڈھائی سال کا فارمولہ قابل قبول نہیں ہے۔ ۸۹؍ سیٹوں  کے ساتھ وہ  مہایوتی اور کارپوریشن میں سب سے بڑی پارٹی  ہے اس لئے میئر کے عہدہ پر اس کا ہی حق ہے۔   بہرحال شیوسینا (شندے ) اور بی جےپی  اس معاملے میں سرکاری طور پر کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔  بی جےپی میں موجود ذرائع کے مطابق چونکہ وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس ڈاوو س  کے دورہ کیلئے روانہ ہوگئے ہیں اس لئے میئر کے عہدہ کے تعلق سے حتمی فیصلہ ان کی واپسی پر ہوگا۔ وہ ۵؍دن کے دورہ پر اتوار کو روانہ ہوئے ہیں۔اُدھو شندے سینا کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ہوٹل میں کارپوریٹروں کو ایوان  کے طور طریقوں کی تربیت دی جارہی ہے۔ 
اُدھو ٹھاکرے نے بھی ہلچل مچادی
اس بیچ شیوسینا (اُدھو) کے سینئر لیڈر سنجے راؤت نے  جہاں  صورتحال  سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا ہے کہ شندے سینا  ممبئی میں  بی جےپی کا میئر نہیں چاہتی۔ وہیں اُدھو ٹھاکرے نے یہ کہہ کر ہلچل مچادی دی ہے کہ ’’بھگوا ن چاہ لے تو شیوسینا (یو بی ٹی) کو بھی  بی ایم سی ہاؤس میں اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔‘‘ انہوں  نے  نشاندہی کی کہ شندے سینا بی جےپی  کے ذریعہ اپنے کارپوریٹروں کا شکار کئے جانے کے امکان سے خوفزدہ ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن یعنی اُدھو ٹھاکرے کی پارٹی کیلئے  ایوان میں اکثریت تک پہنچنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ان کی پارٹی ۶۵؍ کارپوریٹرس کے ساتھ بی ایم سی میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے ۔اس کی اتحادی ایم این ایس نے  ۶؍ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ کانگریس  نے ۲۴؍ اور ایم آئی ایم  نے ۸؍ سیٹیں جیتی ہیں۔اس کے علاوہ سماجوادی پارٹی کے ۲؍ کارپوریٹر منتخب ہوئے ہیں۔ این سی پی (شرد پوار ) ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح اپوزیشن کے کارپوریٹرس کی کل تعداد۱۰۶؍ ہوجاتی ہے۔ اگر اجیت پوار جنہوں  نے مہایوتی سے الگ ہوکر الیکشن لڑا ہے، کی پارٹی کے ۳؍ کارپوریٹرس کو  بھی اس میں شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد ۱۰۹؍ ہوجاتی ہے۔   اس کے بعد بھی  اکثریت کیلئے ۵؍ کارپوریٹروں کی حمایت درکار ہوگی۔    یہ کمی شندے یا بی جےپی کے کارپوریٹروں سے ہی پوری کی جاسکتی ہے ۔  بہرحال  یہ دور کا خواب نظر آتاہے۔ 
شندے کسی بھی طرح کا جوکھم نہیں لینا چاہتے
ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایکناتھ شندے اپوزیشن  سے نہیں خود اپنی اتحادی بی جےپی سے خوفزدہ ہیں جو ان کے کارپوریٹرس کو توڑ کر مول بھاؤ کرنے کی ان کی طاقت کو کم کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔  اُدھو ٹھاکرے نے بھی اس اندیشہ کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ’’جو ایک بار ایک پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں وہ دوبارہ بھی چھوڑ سکتے ہیں۔‘‘ میئر کے عہدہ  پر شندے کا دعویٰ ان کی مجبوری بھی  ہے کیوں کہ وہ خود کو اصلی شیوسینا قرار دیتے ہیں اور یہ ان کیلئے شرم کا باعث ہوگا کہ جس مہینے اور سال میں  بال ٹھاکرے کے یوم پیدائش کی صد سالہ تقریبات ہوں اسی سال ممبئی میں میئرکسی اور پارٹی کا ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK