Inquilab Logo Happiest Places to Work

تکارام منڈے کا خوف بھیونڈی ڈھابوں تک پہنچا، کھانے ’بے رنگ‘ ہوئے

Updated: July 30, 2026, 12:27 PM IST | Qutbuddin Shahid | Bhiwandi

ایف ڈی اے کمشنر کی کارروائیوںکے پیش نظر ڈھابوںمیںپیش کئے جانے والے کھانوںمیں رنگ کا استعمال بند کردیا گیا۔

Colours are widely used in food at dhabas. Photo: INN
ڈھابوں پر کھانوں میں رنگوں کا بہت استعمال ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی کے ڈھابوں نے بہت کم عرصے میں اپنی شناخت شہر سے باہر نکل کر بین الاقوامی سطح تک بنالی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ دبئی میں بھی ’بھیونڈی کے ڈھابے‘ کھل گئے ہیں ا ور خوش ذائقہ افراد سے خراج وصول کررہے ہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں’مناسب قیمت میں بہترین ذائقہ ‘ اہم ہے۔ لیکن ان ڈھابوں میں ایک بات جو اکثر محسوس کی جاتی تھی اور جس کی شکایت عام طور پر صارف کرتے تھے، وہ یہ کہ کھانوں میں ’رنگ‘ بہت ہوتا تھا۔ ان رنگوں کی وجہ سے بہت سارے کھانوں کے نام بھی رنگین (گرین، ریڈ اور گولڈن) ہوتے تھے لیکن اب ایف ڈی اے کمشنر تکا رام منڈے کی وجہ سے کھانے میں رنگوں کااستعمال بند ہوگیا ہے یا بڑی حد تک کم ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مولانا آزاد میٹرنیٹی ہوم شروع نہ ہونے سے ناراضگی

اتوار کو کچھ دوستوں کے ساتھ ایک ڈھابے پر جاناہوا تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ڈھابوں کے مشہور ’اسٹارٹر‘  سےجسے عام طور پرلوگ ’چنا لہسن‘ کہتے ہیں،   رنگ غائب تھا ۔ پلیٹ میںسفید لہسن کے ساتھ چنے اپنے فطری رنگ میں دکھائی دے رہے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کے بعد جب ہم واش بیسن پر گئے اور ہاتھوں کو  دھویا تو ایک ہی کوشش میں پوری طرح سے صاف شفاف ہوگئے جبکہ اس سے قبل یہ ممکن نہیں تھا۔ بسا اوقات تو دو تین دنوں تک ہاتھوں میں لگے سالن کے رنگ نہیں اترتے تھے بلکہ اس سے پہلے لڑکیوں کے ہاتھوں کی مہندی کے رنگ اُترجاتے تھے۔ماہرین کے مطابق کھانوں میں ڈالا جانے والا رنگ ایک کیمیائی مرکب ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ رنگ قدرتی پودوں اور معدنیات سے یا پھر لیباریٹری میں پیٹرولیم سے بنتا ہے۔ یہ رنگ کھانوں کو خوبصورت اور چمکدار توبناتےہیں لیکن صحت کیلئے مضر بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  ان رنگوں کے استعمال کو بند کئے جانے پر عوام کے ساتھ ہی ڈھابہ مالکان  نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ٹورینٹ پاور نے ۲۶۶؍ عمارتوں کو نوٹس جاری کیا

بھیونڈی میں ’بھائی جان ڈھابہ‘ کے مالکان میں سے ایک محمد انس انصاری  نے ایف ڈی اے کمشنر کی اس کوشش کی پزیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ رنگوں کی مدد سے کھانوں کو صرف خوش رنگ کیا جاتا تھا، اس سے ذائقے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔چونکہ کاروبار میں حریفائی ہوتی ہے،اسلئے ہم مجبوراً اسے استعمال کرتے تھے لیکن پابندی لگنے کی وجہ سے  اب ہمیں بھی راحت مل گئی ہے اور صارفین بھی ’بے رنگ‘ کھانوں کو پسند کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میںبالخصوص دبئی اور چین میں ، میں نے دیکھا ہے کہ کھانوں میں بالکل بھی رنگوں کا استعمال نہیں ہوتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تکارام منڈے اپنے عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، ہم اس پابندی کا احترام آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK