• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی: انطاکیہ کی حبیب نجار مسجد تین سال بعد دوبارہ کھل گئی، زلزلے کے بعد بحالی

Updated: February 05, 2026, 10:10 PM IST | Antakya

ترکی کے شہر انطاکیہ میں واقع تاریخی حبیب نجار مسجد، جو مسلمانوں اور مسیحیوں دونوں کے لیے مقدس سمجھی جاتی ہے، ۶؍ فروری ۲۰۲۳ء کے تباہ کن زلزلوں کے تین سال بعد دوبارہ کھول دی گئی۔ حکام کے مطابق مسجد اُن ۳۳؍ تاریخی مقامات میں شامل ہے جنہیں زلزلے کے بعد جاری تعمیرِ نو کے عمل کے تحت بحال کیا گیا۔

Habib-i Neccar Mosque. Photo: X
حبیب نجار مسجد۔ تصویر: ایکس

ترکی کے شہر انطاکیہ میں واقع تاریخی حبیب نجار مسجد ( Habib-i Neccar Mosque ) کو تین سال بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ مسجد ۶؍ فروری ۲۰۲۳ء کو آنے والے شدید زلزلوں میں بری طرح متاثر ہوئی تھی، جن میں ترکی بھر میں ۵۳؍ ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ حبیبِ نجار مسجد اناطولیہ کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے اور اسے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحیوں کے لیے بھی ایک مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ زلزلے کے بعد یہ عبادت گاہ مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی اور طویل عرصے تک اس کی بحالی کا کام جاری رہا۔ مسجد کی دوبارہ افتتاحی تقریب کے موقع پر ترکی کے وزیرِ ماحولیات، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی مراد خرم نے کہا کہ حبیبِ نجار مسجد انطاکیہ کی شناخت اور روح کا حصہ رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’’یہ مسجد انطاکیہ کا دل تھی، اور آج ایک بار پھر یادیں، دعائیں اور امیدیں اس کے گنبد کے نیچے جمع ہو رہی ہیں۔‘‘

سرکاری بیان کے مطابق، حبیبِ نجار مسجد اُن ۳۳؍ تاریخی عمارتوں اور مذہبی مقامات میں شامل ہے جنہیں زلزلے کے بعد جاری بحالی اور تعمیرِ نو کے منصوبے کے تحت ازسرِنو بحال کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد نہ صرف متاثرہ ڈھانچوں کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے بلکہ خطے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔ زلزلے کے بعد حطائی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا، جہاں متعدد تاریخی عمارتیں، عبادت گاہیں اور رہائشی علاقے تباہ ہو گئے تھے۔ حبیبِ نجار مسجد کی بحالی کو اس وسیع تر عمل کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بحالی کے دوران مسجد کے اصل ڈھانچے اور تاریخی خصوصیات کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ حکام کے مطابق تعمیرِ نو کے کام میں جدید انجینئرنگ تکنیکوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ آئندہ قدرتی آفات کے مقابلے میں عمارت زیادہ محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے امیر تر افراد کی دولت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟

مسجد کی دوبارہ بحالی کو مقامی سطح پر ایک علامتی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، یہ عبادت گاہ نہ صرف مذہبی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے بلکہ انطاکیہ کی اجتماعی یادداشت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حبیبِ نجار مسجد کی بحالی، زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں زندگی کی بحالی کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں تباہی کے بعد تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی تسلسل کو بھی دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK