Updated: October 04, 2026, 2:04 PM IST
| Ankara
۱۹۲۸ء میں تازلار (Tazlar) کے ایک فرد احمد آغا نے تمباکو کے خلاف اجتماعی عہد لینے میں رہائشیوں کی قیادت کی تھی، اس وقت گاؤں کے چند ہی لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے۔ اس دور میں ترکی کی سرکاری تمباکو اجارہ داری، ٹیکل (Tekel)، سگریٹ کی قومی تجارت کو مستحکم کر رہی تھی۔ تقریباً ایک صدی بعد، تزلار اب بھی ایک ایسی نمایاں جگہ ہے جہاں سگریٹ پینے والے شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، اگرچہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترک شہری دنیا بھر میں سگریٹ کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔
ترکی کے مغربی صوبے افیون قرہ حصار میں واقع تازلار (Tazlar) گاؤں کی تقریباً ۲۰۰۰ افراد پر مشتمل آبادی سگریٹ نوشی کے بغیر پروان چڑھی ہے۔ یہ روایت تقریباً ۱۰۰ سال پرانی ہے اور تمباکو نوشی کے خلاف جدید قوانین کے وجود میں آنے سے بہت پہلے کی ہے۔
یہ روایت ۱۹۲۸ء سے شروع ہوا تھا جب تازلار گاؤں کے ایک فرد احمد آغا نے تمباکو کے خلاف اجتماعی عہد لینے میں رہائشیوں کی قیادت کی تھی، اس وقت گاؤں کے چند ہی لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے۔ اس دور میں ترکی کی سرکاری تمباکو اجارہ داری، ٹیکل (Tekel)، سگریٹ کی قومی تجارت کو مستحکم کر رہی تھی۔ تقریباً ایک صدی بعد، تزلار اب بھی ایک ایسی نمایاں جگہ ہے جہاں سگریٹ پینے والے شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں، اگرچہ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترک شہری دنیا بھر میں سگریٹ کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف احتجاج، میڈرڈ میں ۳۰۰؍ سے زائد خیمے نصب
تازلار گاؤں کے ۶۶ سالہ رہائشی، خطیب اور اکاؤنٹنٹ محمد ایدوموش نے کہا کہ سگریٹ نہ پینے کو کبھی بھی کسی مسلط کردہ قاعدے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ یہ قدرتی طور پر اپنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم ایسے ماحول میں پلے بڑھے جہاں ہمارے ارد گرد لوگ سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ ایک لحاظ سے، سگریٹ نہ پینا کوئی ایسا فیصلہ نہیں تھا جو ہم نے بعد کی زندگی میں کیا ہو۔ یہ براہِ راست ہماری زندگیوں اور ہماری ثقافت کا حصہ بن گیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”جب میں بچہ تھا تو گاؤں میں کسی کو سگریٹ پیتے دیکھنا ایک غیر معمولی بات تھی۔“
ایدوموش نے کہا کہ اس روایت نے صحت کے خدشات کو خاندانی ذمہ داری اور سماجی یکجہتی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارے بڑے ہمیں مسلسل اس نقصان کے بارے میں بتاتے تھے جو سگریٹ نوشی انسانی صحت کو پہنچاتی ہے۔“ انہوں نے نشان دہی کی کہ وہ خاندان اور قوتِ ارادی پر اس کے اثرات پر بھی زور دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی میں باہمی جواب دہی کا احساس اب بھی مضبوط ہے: ”اگر کوئی نوجوان کہیں کوئی غلطی کرتا ہے، تو لوگ یہ نہیں کہتے کہ ’اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ گاؤں میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
تازلار میں پلے بڑھے ۲۹ سالہ مراد کاراسوگت نے کہا کہ وہ دوسری جگہوں پر سگریٹ پینے والوں کو دیکھ کر ایک تہذیبی جھٹکا محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”سگریٹ نہ پینا ہمارے گاؤں میں ایک رواج کی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے نوجوان اسے زیادہ آسانی سے اپنا لیتے ہیں۔“
تاہم، تازلار کے دو تہائی سے زائد نوجوانوں کے اب تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں شہروں کا رخ کرنے کے باعث، دونوں افراد نے اس روایت کے مستقبل کے حوالے سے غیریقینی صورتحال کا اعتراف کیا۔ ایدوموش نے کہا کہ ”ہم ماضی میں قید رہنا نہیں چاہتے، لیکن ہم اپنے ماضی کو کھونا بھی نہیں چاہتے۔“
یہ بھی پڑھئے: غزہ: زیرحراست ڈاکٹر ابو صفیہ یورپی پارلیمنٹ کے ’انسانی حقوق ایوارڈ‘ کیلئے نامزد
واضح رہے کہ یہ کہانی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی جنوری ۲۰۱۵ء کے بعد پیدا ہونے والے افراد کیلئے سگریٹ نوشی پر تاحیات پابندی عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ صدر رجب طیب اردگان خود بھی سگریٹ نوشی کے سخت ترین مخالف ہیں۔