Updated: April 13, 2026, 9:58 PM IST
| Istanbul
حاقان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل ’’دشمن کے بغیر نہیں رہ سکتا‘‘ اور ترکی کو بطور نیا مخالف پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب رجب طیب اردگان نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ممکنہ اشتعال انگیزی سے خبردار کیا ہے جو ایران سے متعلق نازک جنگ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو کی حالیہ بیان بازی نے بھی کشیدگی کو بڑھایا ہے، جبکہ ترکی اسرائیل تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے بعد شدید دباؤ میں ہیں۔
حاقان فیدان۔ تصویر: آئی این این
مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے درمیان ترکی اور اسرائیل کے تعلقات ایک بار پھر شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں، جہاں حاقان فیدان نے اسرائیل پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’دشمن کے بغیر نہیں رہ سکتا‘‘ اور اب ترکی کو اپنے نئے مخالف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ترک وزیر خارجہ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کو دیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو میں اسرائیلی پالیسیوں اور بیانیے پر تنقید کی۔ ان کے مطابق، نہ صرف بنجامن نیتن یاہو کی حکومت بلکہ اسرائیل کی کچھ اپوزیشن شخصیات بھی ترکی کو ایک ممکنہ دشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد مذاکرات ناکام، امریکہ کا ایران پر نئے حملوں پر غور: رپورٹ
فیدان نے واضح کیا کہ یہ رجحان محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اسرائیل کی ریاستی حکمت عملی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے بعد اسرائیل کو ایک نئے دشمن کی تلاش ہے، اور ترکی کو اس کردار میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تنازع ایک وسیع تر جغرافیائی پس منظر میں سامنے آ رہا ہے، جہاں ترک صدر رب طیب اردگان نے حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کیا کہ کسی بھی ’’ممکنہ اشتعال انگیزی یا تخریب کاری‘‘ سے ایران کے ساتھ قائم ہونے والی نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے، جبکہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز کارروائی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات غزہ جنگ ۲۰۲۳ء کے بعد سے مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس جنگ نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات کو شدید متاثر کیا۔ ترکی نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں پر سخت تنقید کی، جبکہ اسرائیل نے ترکی کے بیانات کو یکطرفہ اور جانبدارانہ قرار دیا۔ مزید برآں، حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے یہ عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل نہ صرف ایران بلکہ اس کے تمام علاقائی اتحادیوں کا مقابلہ جاری رکھے گا۔ اس بیان کو ترکی میں ایک واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنی حکمت عملی کو مزید وسیع کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر نئے محاذ کھولنے کی تیاری میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی
ماہرین کے مطابق، ترکی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، کسی بھی نئے محاذ کا کھلنا امن عمل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ترکی کی جانب سے بار بار مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے سخت موقف اپنانے کے اشارے مل رہے ہیں۔ اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ کشیدگی محض بیانات تک محدود رہتی ہے یا عملی سطح پر بھی اس کے اثرات سامنے آتے ہیں۔