Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی

Updated: April 13, 2026, 7:03 PM IST | Tehran

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسلام آباد مذاکرات کو اس وقت پٹری سے اتار دیا جب دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب تھے۔ ایران کے مطابق ’’اسلام آباد ایم او یو‘‘ طے پانے ہی والا تھا مگر امریکی جانب سے شرائط بدلنے اور ناکہ بندی کے فیصلے نے پیش رفت روک دی۔ اس درمیان سینٹ کوم کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات یورینیم افزودگی، منجمد اثاثوں اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر برقرار ہیں، جبکہ خطے میں فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم امن مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے براہ راست امریکہ پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران نے ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ مذاکرات کیے اور دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے، جسے ’’اسلام آباد ایم او یو‘‘ کہا جا رہا تھا، سے صرف چند قدم دور تھے۔ تاہم، ان کے مطابق امریکی وفد نے اچانک اپنی شرائط تبدیل کر دیں، زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کیے اور ناکہ بندی جیسے اقدامات کے ذریعے عمل کو روک دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سین کوٹ نے اعلان کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی سمندری ٹریفک پر ناکہ بندی نافذ کرے گا۔ یہ اقدام خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ارد گرد بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی حساس سمجھا جا رہا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات، جو پاکستان کی ثالثی میں ہوئے، کئی دور کی بات چیت اور تجاویز کے تبادلے کے باوجود کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ دونوں فریق بنیادی نکات پر اختلاف برقرار رکھتے ہوئے مذاکراتی میز چھوڑ گئے، تاہم انہوں نے مستقبل میں مزید سفارتی کوششوں کا عندیہ دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، سب سے بڑے تنازعات ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل، بیرون ملک منجمد تقریباً ۲۷؍ ارب ڈالر کے اثاثوں کی واپسی، اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور کھلنے کی شرائط پر مرکوز تھے۔ ایران نے کچھ درمیانی تجاویز بھی پیش کیں، جیسے افزودگی کو محدود کرنا یا ذخیرہ کم کرنا، لیکن کوئی حتمی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

ادھر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دباؤ یا فوجی راستہ اپنایا تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر وہ لڑیں گے تو ہم بھی لڑیں گے‘‘، جو کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی واضح علامت ہے۔ اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی سخت وارننگ جاری کی ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے ’’مکمل کنٹرول‘‘ میں ہے اور اگر کسی فوجی کارروائی کی کوشش کی گئی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران نے امریکی ناکہ بندی کو ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیا ہے۔

مزید تشویش اس وقت بڑھی جب ایک ویڈیو سامنے آیا جس میں مبینہ طور پر ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز کو راستہ بدلنے کا انتباہ دیا۔ اگرچہ اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اس نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی نافذ کرتا ہے تو ایران ممکنہ طور پر آبنائے باب لمندب جیسے دیگر اہم تجارتی راستوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیڈرو سانچیز کا مشرق وسطیٰ، یوکرین میں تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ: رپورٹ

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنگ پہلے ہی اپنے ساتویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ سفارتی کوششوں کی ناکامی اور فوجی تیاریوں کے اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی غلط قدم کے دور رس عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK