Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکرین: سام دشمنی کے خلاف سخت قانون نافذ، قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر

Updated: April 16, 2026, 7:30 PM IST | Kyiv

یوکرین نے سام دشمنی کے خلاف ’’زیرو ٹالرینس‘‘ پالیسی اپناتے ہوئے نیا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت نفرت انگیز جرائم پر قید اور بھاری جرمانے ہوں گے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی کے دستخط کے بعد یہ قانون نافذ ہوا، جس کا مقصد نسلی و مذہبی بنیادوں پر نفرت کو روکنا اور قانونی خلا کو ختم کرنا ہے۔

Zelensky (right) Netanyahu (left) Photo: X۔ Photo: X
زیلینسکی (دائیں) نیتن یاہو(بائیں) تصویر: ایکس

یوکرین نے نسلی و مذہبی امتیاز کے خلاف ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سام دشمنی کے کسی بھی مظاہر کو باقاعدہ طور پر مجرمانہ جرم قرار دے دیا ہے۔ قانون پر صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دستخط کیے ہیں۔ اسے ریاست کی جانب سے نفرت انگیز رویوں کے خلاف سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ یہ قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بین النسلی کشیدگی اور نفرت انگیز تقاریر پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا بنیادی مقصد قانونی فریم ورک کو واضح بنانا اور شہریوں کو مذہب یا نسل کی بنیاد پر امتیاز سے مؤثر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے حق میں ۲۹۵؍ ارکان نے ووٹ دیا۔ اس سے قبل، ایسے جرائم کو عمومی طور پر غنڈہ گردی یا عوامی بدامنی کے قوانین کے تحت دیکھا جاتا تھا، جس سے ان کی نوعیت اور سنگینی واضح نہیں ہو پاتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍فیصدامریکی اسرائیل اور نیتن یاہو کوناپسند کرتے ہیں

نئے قانون کے تحت، سام دشمنی نہ صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ زبانی توہین، امتیازی سلوک کے مطالبات اور مذہبی بنیادوں پر املاک کو نقصان پہنچانے جیسے اعمال بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس طرح قانون نفرت کے تمام ممکنہ مظاہر کو اپنے دائرے میں لے آتا ہے۔ اہم تبدیلی دفعہ ۱۶۱؍ میں کی گئی ہے، جو پہلے ہی شہریوں کی مساوات سے متعلق معاملات کو ریگولیٹ کرتا تھا۔ اب اس میں سام دشمنی کی واضح تعریف شامل کر دی گئی ہے، جس سے عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایسے جرائم کی درست درجہ بندی اور فوری کارروائی ممکن ہو جائے گی۔
سزا کے حوالے سے قانون ایک سخت اور مرحلہ وار نظام متعارف کراتا ہے۔ بنیادی نوعیت کے جرائم پر ۳۴۰۰؍ سے ۸۵۰۰؍ ہریونیا تک جرمانہ یا متبادل طور پر تین سال تک قید یا پانچ سال تک آزادی کی پابندی ہو سکتی ہے۔ عدالت مجرم کو مخصوص عہدوں پر فائز ہونے سے بھی روک سکتی ہے۔ اگر جرم میں تشدد، دھمکی یا سرکاری اختیارات کا غلط استعمال شامل ہو تو سزا مزید سخت ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں کم از کم جرمانہ ۱۷؍ ہزار ہریونیا تک بڑھ جاتا ہے اور قید کی مدت دو سے پانچ سال ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مذاکرات کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے

سب سے سنگین کیسز، جیسے منظم گروہوں کے ذریعے کیے گئے حملے یا ایسے اقدامات جن سے متاثرہ شخص کی جان یا صحت کو شدید نقصان پہنچے، ان میں پانچ سے آٹھ سال تک قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون نہ صرف داخلی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یوکرین کی ساکھ کو مضبوط کرے گا، خاص طور پر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اس قانون کے نفاذ میں ہوگا کیونکہ صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK