• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر ترکی کا عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ

Updated: October 17, 2026, 3:04 PM IST | Ankara

اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر ترکی نے عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، ترکی کی قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نعمان کرتلموش نے جمعہ کو کہا کہ بین الاقوامی برادری قانون کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔

Speaker of the Grand National Assembly of Turkey (Parliament), Numan Kurtulmuş. Photo: X
ترکی کی قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نعمان کرتلموش۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر ترکی نے عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، ترکی کی قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نعمان کرتلموش نے جمعہ کو کہا کہ بین الاقوامی برادری قانون کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ روم میں انعقاد پذیر یورپین کانفرنس آف پریذیڈنٹس آف پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرتلموش نے کہا، ’’ہم کسی کو سزا سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ انہوںنے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کی تنزلی کا اندازہ غزہ میں سالہا سال سے جاری انسانی تباہی اور نسل کشی سے واضح طور پر لگایا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایرانی صدر نے امریکی-اسرائیلی جنگ کو ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا

علاوہ ازیں کرتلموش نے کہا، ’’ہم اب غزہ اور پورے خطے میں جاری انسانی المیے اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کئے جانے والے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم پر مزید آنکھیں نہیں موند سکتے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’یہ صرف ایک سیاسی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کے مشترکہ ضمیر کا بھی امتحان ہے۔‘‘اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ اسرائیلی جارحیت صرف غزہ تک محدود نہیں ہے، کرتلموش نے کہا، ’’مغربی کنارے میں بھی تباہی، لوگوں کی بے دخلی اور غیر قانونی آبادکاروں کا تشدد مسلسل جاری ہے اور اسرائیل شام اور لبنان سمیت خطے کے دیگر ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پارلیمان آگے آئیں اور غزہ کے عوام کی تکالیف اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر ختم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔  
بعد ازاں کرتلموش نے پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ غزہ کے لوگوں کی تکالیف اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کیلئے فوری اقدامات کریں۔انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا ماننا ہے کہ پارلیمانوں کا باہمی مربوط عمل بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے اور مسلسل خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے کی عالمی کوششوں کو مضبوط کر سکتا ہے۔‘‘ کرتلموش کے مطابق موجودہ بین الاقوامی نظام یورپی حدود کے بالکل قریب ہونے والی جنگوں اور تنازعات کو بھی روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا، ’’روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً پانچ سالوں سے جاری جنگ اب دو ممالک کے درمیان تنازع کے بجائے ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے پورے یورپ کو متاثر کیا ہے۔‘‘اس کے علاوہ، کرتلموش نے کہا کہ بین الاقوامی نظام تین سال سے زائد عرصے سے غزہ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مسترد کر دیا

کرتلموش نے خبردار کیا کہ قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام اپنی مقبولیت، افادیت اور ساخت کے لحاظ سے شدید انحطاط کا شکار ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایک منصفانہ اور قابلِ اعتماد بین الاقوامی نظام کی تعمیر کیلئے پارلیمانوں کو اس مقصد کیلئے ضروری نئے قواعد و ضوابط کو شکل دینے، ان پر بحث کرنے اور ان کی حمایت میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’یہیں پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ روایتی سفارت کاری کو تقویت دے سکتی ہے، مواصلاتی راستوں کو کھلا رکھ سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر نئے راستے ہموار کر سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’بحرانوں کو حل کرنے کا پورا بوجھ اقوامِ متحدہ پر ڈالنا اور صرف اقوامِ متحدہ کی اصلاحات پر انحصار کرنا کوئی نتائج فراہم نہیں کرے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK