ترکی کے ایک اسکول میں ایک نوعمر حملہ آور نے اندھادھند فائرنگ میں ۱۶؍ طلبہ اور عملہکو زخمی کردیا، اور آخر میں خود کو بھی گولی مارلی، حملے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 7:05 PM IST | Ankara
ترکی کے ایک اسکول میں ایک نوعمر حملہ آور نے اندھادھند فائرنگ میں ۱۶؍ طلبہ اور عملہکو زخمی کردیا، اور آخر میں خود کو بھی گولی مارلی، حملے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔
ترکی کے ایک پیشہ ورانہ اسکول میں۱۸؍ سالہ سابق طالب علم نے۱۶؍ افراد (جن میں طلبہ اور عملہ شامل تھے) کو زخمی کیا، اس کے بعد خود کو ہلاک کر لیا۔ ضلع سیورک میں اس غیر معمولی فائرنگ کے واقعے کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔حکام کے مطابق، ملزم حملہ آور نے خود کو ہلاک کرنے سے پہلے کم از کم۱۶؍ افراد کو زخمی کیا۔۱۸؍ سالہ حملہ آور شاٹ گن سے مسلح تھا اور اس نے صوبہ شانلی اورفہ کے ضلع سیورک میں اسکول کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی۔ گورنر حسن سلدک کے مطابق، وہ بعد میں اسکول کی عمارت میں چھپ گیا اور اسی بندوق سے خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا۔جبکہ اس حملے میں۱۰؍ طلبہ، چار اساتذہ، ایک کینٹین ملازم اور ایک پولیس افسر زخمی ہوئے۔تاہم افسر نے بتایا کہ زیر علاج زخمیوں میں سے پانچ اساتذہ اور طلبہ کی حالت زیادہ نازک تھی، انہیں صوبائی دارالحکومت کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
🚨 BREAKING:- Attach on Turkey School 🎒
— Globe Wire 24 🌍 (@Globewire24) April 14, 2026
Mass shooting that has wounded at least 16 people in a high school in southern Türkiye 🇹🇷
The suspected shooter, a 17-year-old, took his own life after the attack.#Turkey #BREAKING #NEWS #SchoolAttack #Shooting pic.twitter.com/z9TB7XjlSx
دریں اثناء حملے کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ترکی میں اسکول فائرنگ کے واقعات شاذ و نادر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ سلدک نے صحافیوں کو بتایا،’’ پولیس کارروائی کے ذریعے ملزم کو عمارت کے اندر گھیر لیا گیا تھا،تاہم اس نے خود کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ فائرنگ کے معاملے کی ’’جامع‘‘ تحقیقات کی جائیں گی۔