Updated: August 03, 2026, 10:11 PM IST
| Beijing
چینی روبوٹکس کمپنی UBTech کے برانڈ UWORLD نے انتہائی انسان نما (Hyper-realistic) ہیومنائیڈ روبوٹ U1 متعارف کرا دیا ہے، جس کی حقیقت سے قریب ترین شکل و صورت، چہرے کے تاثرات اور گفتگو کی صلاحیت نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ صارفین نے روبوٹ کی ویڈیوز دیکھ کر ’’Take my money‘‘ جیسے تبصرے کیے، جبکہ کئی افراد نے اسے تنہائی کا ممکنہ حل قرار دیا۔
چین کی معروف روبوٹکس کمپنی UBTech نے اپنے برانڈ UWORLD کے تحت U1 نامی ایک انتہائی انسان نما ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کرایا ہے، جس کی حقیقت سے قریب ترین شکل، قدرتی حرکات اور جذباتی گفتگو کی صلاحیت نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ روبوٹ کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’’Take my money‘‘۔ کمپنی کے مطابق U1 مرد اور خاتون دونوں ماڈلز میں دستیاب ہے۔ مرد ماڈل کی لمبائی ۱۸۳؍ سینٹی میٹر اور وزن ۴۲؍ کلوگرام ہے، جبکہ خاتون ماڈل ۱۶۸؍ سینٹی میٹر لمبا اور ۲ء۳۵؍ کلوگرام وزنی ہے۔ روبوٹ کی جلد لچکدار سلیکون سے تیار کی گئی ہے، جبکہ بال، بھنویں اور پلکیں الگ سے نصب کی گئی ہیں تاکہ اس کی شکل زیادہ قدرتی محسوس ہو۔
یہ بھی پڑھئے: میگڈو جیل میں فلسطینی قیدی بھوک، طبی غفلت اور تشدد کا شکار: کمیشن کی تشویشناک رپورٹ
کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ ۹۰؍ فیصد سے زیادہ بنیادی انسانی حرکات انجام دے سکتا ہے۔ اس میں ۸۸؍ سینسرز اور جوائنٹس نصب ہیں، جو اسے چلنے، جسمانی توازن برقرار رکھنے، چہرے کے تقریباً ۳۰؍ باریک تاثرات ظاہر کرنے، انسانی آواز سمجھنے اور قدرتی انداز میں جواب دینے کے قابل بناتے ہیں۔ UBTech کے مطابق روبوٹ دنیا کے پہلے ایسے Emotional AI Model سے لیس ہے جو طویل مدتی رفاقت (Long-term Companionship) کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام ۲۰؍ سے زیادہ جذباتی کیفیتوں کو ۹۰؍ فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ پہچان سکتا ہے اور صارف کے مزاج کے مطابق گفتگو اور ردِعمل دیتا ہے۔
UBTech کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ژو جیان (Zhou Jian) نے کہا کہ ’’اگر کوئی روبوٹ گھر کے کام بھی کر سکے، جذباتی رفاقت بھی فراہم کرے اور اس کی شخصیت و ظاہری شکل بھی دلکش ہو تو ایک سے دو لاکھ یوآن کی قیمت زیادہ نہیں۔‘‘ کمپنی نے بتایا کہ روبوٹ کے Lite، Pro اور Ultra ورژن متعارف کرائے گئے ہیں۔ U1 Lite کی قیمت ۱۱۹۸۰۰؍ یوآن، U1 Pro کی ۱۶۹۸۰۰؍ یوآن جبکہ اعلیٰ درجے کے Ultra ماڈل کی قیمت ۸۸۰۰۰۰؍ سے ۹۹۰۰۰۰؍ یوآن تک ہے۔ کمپنی کے مطابق روبوٹ صرف بالغ افراد ہی خرید اور استعمال کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسکول میں چھٹی جماعت کے طالب علم کے ہاتھ میں اسرائیلی گولی پیوست
رپورٹ کے مطابق روبوٹ کی قیمت زیادہ ہونے کے باوجود اسے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے اور لانچ کے فوراً بعد ۱۰؍ ہزار سے زائد پری آرڈرز موصول ہوئے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ تعداد ۱۳۳۰۰؍ تک بتائی گئی ہے۔ کمپنی کا ہدف ۲۰۲۶ء کے دوران ۵۰؍ ہزار بایونک روبوٹس تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ’’اگر یہ روبوٹ مجھے جذباتی سہارا دے، دوا لینے کی یاد دلائے اور بیماری کی صورت میں ایمرجنسی سروسز کو کال کر سکے تو میں ضرور خریدوں گا۔ ایسا ساتھی جو کبھی دھوکا نہ دے یا چھوڑ کر نہ جائے، اس قیمت کے قابل ہے۔‘‘
تاہم ہر ردعمل مثبت نہیں تھا۔ بعض ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے AI ساتھی لوگوں کو حقیقی انسانی تعلقات سے دور کر سکتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’کیا یہ ٹیکنالوجی کی ترقی ہے یا پھر ہماری حقیقی انسانی تعلقات قائم رکھنے کی صلاحیت میں کمی کی علامت؟‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انسان نما روبوٹس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، تاہم ان کی بڑے پیمانے پر عوامی زندگی میں شمولیت کے ساتھ رازداری، جذباتی انحصار، اخلاقیات اور سماجی اثرات جیسے سوالات بھی پہلے سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔