رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کارکردگی میں بہتری اور اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کسٹمر سروس شعبے کے تقریباً ۱۰؍ فیصد ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 4:02 PM IST | New Delhi
رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کارکردگی میں بہتری اور اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کسٹمر سروس شعبے کے تقریباً ۱۰؍ فیصد ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔
رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کارکردگی میں بہتری اور اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کسٹمر سروس شعبے کے تقریباً ۱۰؍ فیصد ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق یہ تازہ چھٹنی اوبر کے کمیونٹی آپریشنز ڈویژن میں کی گئی ہے، جو صارفین کو کسٹمر سپورٹ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیٹ تنازع، بنگلور: بی جے پی ایم ایل اے پر انڈا پھینکا گیا،کانگریس کارکن پر الزام
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے اس شعبے میں کام کرنے والے ریموٹ ملازمین کو بھی اپنی ریٹرن ٹو آفس پالیسی کے تحت مقررہ ہب دفاتر میں منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔یہ تنظیمِ نو ایسے وقت میں کی گئی ہے جب اوبر اپنی داخلی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے اور آپریشنز میں اے آئی کے استعمال کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔کمپنی کے ایک داخلی پیغام کے حوالے سے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ تنظیمی ڈھانچہ کافی منتشر ہو چکا تھا، جس کے باعث نئی نسل کی اے آئی ٹیکنالوجیز سے بھرپور فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔یہ پہلا موقع ہے جب اوبر نے ملازمین کی چھٹنی کو براہِ راست اپنی اے آئی حکمتِ عملی سے جوڑا ہے۔
اس سے قبل جون میں بھی کمپنی نے اپنے پیپل ڈویژن میں تقریباً ۲۳؍ فیصد عہدے ختم کیے تھے، جس کا اثر عالمی سطح پر موجود تقریباً ۳۴؍ ہزار ملازمین میں سے ایک فیصد سے بھی کم افراد پر پڑا تھا۔ اوبر پہلے ہی اشارہ دے چکی تھی کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کمپنی میں نئی تقرری کی رفتار سست رہے گی۔ تاہم کمپنی اب بھی ۵۰۰؍ سے زائد اسامیوں پر بھرتی کر رہی ہے، جن میں خودکار نقل و حمل (Autonomous Mobility) اور روبو ٹیکسی پروگراموں سے متعلق انجینئرنگ کی اسامیاں بھی شامل ہیں۔
اوبر کی یہ نئی چھٹنی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ٹیکنالوجی صنعت میں بھی بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔حالیہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد ٹیک ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جن میں صرف مئی کے مہینے میں تقریباً۲۸۹۰۰؍ ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ Layoffs.fyi کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک عالمی سطح پر ۱۱۶۷۳۹؍ ٹیک ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہر طالب علم منصفانہ نظام کا حقدار: طلبہ کی تنقید کے بعد آر مادھون کا ردِعمل
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاگت میں کمی، تنظیمِ نو اور اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اوبر، میٹا، کلاؤڈ فلیئر، اِنٹُوئٹ، پے پال، سِسکو، کوورا اور کوائن بیس سمیت کئی بڑی ٹیک کمپنیوں نے بھی ملازمین کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔