آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کے زیرِ اہتمام منعقدہ کنونشن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شرکت کی دعوت دینے والے یو جی سی کے سرکیولر پر ماہرین تعلیم نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری ادارے تیزی سے ”آر ایس ایس کے توسیعی ادارے“ بن چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 14, 2026, 7:09 PM IST | New Delhi
آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کے زیرِ اہتمام منعقدہ کنونشن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شرکت کی دعوت دینے والے یو جی سی کے سرکیولر پر ماہرین تعلیم نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری ادارے تیزی سے ”آر ایس ایس کے توسیعی ادارے“ بن چکے ہیں۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے ایک سرکیولر جاری کرکے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں ’بھارتی ودوت پریشد‘ اور ’راشٹر سیویکا سمیتی‘ کے زیرِ اہتمام منعقدہ کنونشن ”بھارتی ناری ٹو نارائنی“ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اس سرکیولر پر ماہرین تعلیم نے سخت اعتراض جتایا ہے اور کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سرکاری ادارے تیزی سے ”آر ایس ایس کے توسیعی اداروں“ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
یو جی سی کی جانب سے جاری کردہ سرکیولر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خواتین فکر سازوں کے قومی کنونشن بعنوان ”بھارتی ناری ٹو نارائنی“ میں شرکت کریں، جو ۷ اور ۸ مارچ ۲۰۲۶ء کو وگیان بھون، نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ کمیشن نے اس ایونٹ کو ”خواتین فکر سازوں کے لئے ایک اشتراکی قومی پلیٹ فارم“ قرار دیا جو خود انحصاری، جامع قیادت اور ہمہ گیر قومی ترقی پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ سرکیولر میں نوٹ کیا گیا ہے کہ اس کنونشن کا مقصد خواتین کی کامیابیوں کا جشن منانا، اختراعی خیالات کو فروغ دینا اور ملک کے مستقبل کے لیے شراکت داری قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند لازمی قرار دینے پر برہمی،مذہبی آزادی پر سوال
یو جی سی نے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ ۸ مخصوص موضوعات پر کانفرنس سے قبل علمی سرگرمیاں جیسے پینل ڈسکشن، پوسٹر پریزنٹیشن اور آڈیو ویژول پریزنٹیشنز منعقد کریں۔ اداروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کے نتائج اور سفارشات کو یکجا کریں اور اس کی رپورٹ یو جی سی کو جمع کرائیں، اس رپورٹ کی ایک کاپی بی وی پی کی سیکریٹری پروفیسر شیوانی وی کو بھی بھیجی جائے تاکہ کنونشن کے دوران ”قوم کی اجتماعی علمی آواز“ کو قومی سفارشات کی دستاویز میں شامل کیا جاسکے۔ مزید برآں، ہو جی سی نے تمام خواتین وائس چانسلرز اور سینیئر خواتین منتظمین سے درخواست کی کہ وہ اعلیٰ تعلیم میں قیادت، گورننس اور صنفی بنیاد پر حساس پالیسیوں پر بحث کرنے کے لئے ایک خصوصی `خواتین وائس چانسلرز میٹ` میں شرکت کریں۔
یو جی سی کے سرکیولر میں مزید ہدایت دی گئی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے نئی دہلی میں ہونے والے اس کنونشن میں شرکت کے لئے ۲۔۲ فیکلٹی ممبران کو نامزد کریں۔ ان نمائندوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تعلیمی سیشنز میں حصہ لیں، اپنے اداروں کے بہترین طریقہ کار شیئر کریں اور کنونشن کے نتائج کو اپنی متعلقہ یونیورسٹیوں میں عام کریں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی یونیورسٹی میں مؤرخ عرفان حبیب پر پانی سےبھری بالٹی پھینکی گئی
یو جی سی پر تنقید
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور کالم نگار اپوروانند نے اس اقدام کی مذمت کرنے کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کا سہارا لیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے الزام لگایا کہ یو جی سی ”باقاعدہ طور پر آر ایس ایس کی ذیلی تنظیموں کی تشہیر اور ترویج کر رہا ہے۔“ بھارتی ودوت پریشد اور راشٹر سیویکا سمیتی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کنونشن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شرکت کی دعوت دینے والے سرکیولر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ”تمام ریاستی ادارے اب آر ایس ایس کے توسیعی ادارے بن چکے ہیں۔“