برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کو چیف آف اسٹاف کی تعیناتی پر فلسطین حامیوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ساتھ ہی فلسطین حامی کارکن ان کی حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 6:04 PM IST | London
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کو چیف آف اسٹاف کی تعیناتی پر فلسطین حامیوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ساتھ ہی فلسطین حامی کارکن ان کی حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نئے برطانوی وزیراعظم کو ان کی تقرریوں اور پالیسیوں پر تنقید کا سامنا ہے۔دفتر سنبھالنے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کئی کابینی تقرریوں پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، حالیہ تقرریوں میں جیمز پرنیل شامل ہیں، جنہیں برنہم نے اپنا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ ۲۰۰۲ءسے۲۰۰۴ء تک لیبر فرینڈز آف اسرائیل (LFI) گروپ کے چیئرمین کے طور پر ان کا کردار داغ دار ثابت ہوا ہے۔انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹاور ہیملٹ کونسل میں گرینز کے نائب لیڈر کونسلر جوناتھن پرسیل نے کہا کہ یہ ’’بالکل واضح‘‘ ہے کہ برنہم کی ترجیحات کیاہیں۔انہوں نے برنہم سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں برطانیہ کی سب بڑی ٹریڈ یونین ٹاور ہیملٹ یونسن کی برانچ سیکرٹری کیری این نے کہا کہ وہ اس حکومت سے اسرائیل کے حوالے سے سخت موقف کی توقع رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "اسرائیل کو اس کی نسل کشی کی سرگرمیوں کی وجہ سے بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے دستبرداری اور پابندیوں کے ذریعے بہت سخت جواب دیں۔ ان کے مطابق برطانوی حکومت اسرائیل کے معاملے میں بہت نرم رہی ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔ این نے کہا کہ برطانیہ کو اسرائیل پر سنجیدہ بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے دستبرداری اور پابندیوں (BDS) کا نظام نافذ کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ برطانوی مقامی پنشنر جان میکلافلن نے اسرائیل کے ساتھ جاری مالی تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’شدید مایوس کن‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اب پنشنر ہوں، مجھے پنشن فنڈز سے پنشن مل رہی ہے۔ مجھے یقین نہیں کہ ہمارا پنشن فنڈ نسل کشی کرنے والی کمپنیوں میں لگایا جانا چاہیے۔‘‘تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ برطانیہ کو فلسطین کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور انہوں نے اس بات پر بہت فکر‘‘کا اظہار کیا کہ برنہم، سابق وزیراعظم کی طرح، ہتھیاروں پر اخراجات بڑھانے کی بات کر رہے ہیں، اور اس میں وہ اسلحہ بھی شامل ہے جو اسرائیل جاتا ہے۔
چیف آف اسٹاف کی تقرری پرنیل کے لابنگ سے روابط کی وجہ سے بھی تنقید کی گئی، کیونکہ وہ فلنٹ گلوبل کے سابق چیف ایگزیکٹو تھے، جو ایک رجسٹرڈ لابیسٹ ہے۔ پرسیل نے کہا کہ ۱۸ ماہ قبل ٹاور ہیملٹ کونسل نے نسل کشی میں ملوث ہتھیاروں کی کمپنیوں سے سرمایہ کاری دستبرداری کی قرارداد منظور کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا: "یہ اتنا اہم کیوں ہے کیونکہ اس کونسل میں ایسے کارکن ہیں جنہوں نے یہ بالکل واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی نسل کشی یا فلسطین پر اس کے غیر قانونی قبضے میں شریک نہیں ہونا چاہتے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ، ملک کے ۵۹؍ویں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے تقریباً ۱۰ دن قبل، برنہم نے غزہ کے حوالے سے لیبر پارٹی کے موقف پر معافی مانگی تھی۔ ان کا کہنا تھا: "غزہ کے سلوک کے بارے میں لیبر کا ابتدائی ردعمل بہت تکلیف دہ تھا۔ ہم سے غلطی ہوئی اور میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔علاوہ ازیں گارجین کو دئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر مزید دباؤ ڈالیں گے، جس میں افراد اور اداروں کے خلاف مزید پابندیاں، نیز غیر قانونی بستیوں کے ساتھ اشیاء کی تجارت پر ممکنہ پابندی شامل ہے۔ انہوں نے غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ’’ناقابل برداشت مصائب‘‘قرار دیا اور کہا کہ یہ ’’ہمارے اجتماعی ضمیر پر داغ ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اور غیر قانونی یہودی آبادکاروں کے تشدد پر بھی تبصرہ کیا اور زور دیا کہ برطانیہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ برنہم نے سنیچرکو ٹی ایل ڈی آر نیوز کو بتایا، مغربی کنارے کی بستیوں کے حوالے سے میں ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہوں، اور ان کا جائزہ لے کر مناسب وقت پر اعلان کیا جائے گا۔‘‘