کچھ دوستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں عمرمیں قید نہیںکیاجاسکتا۔ وقت گزرتا ہے، زندگی نئے نئے رخ اختیار کرتی ہے لیکن بچپن کے دوستوں کی یادیں ہمیشہ دل میں تازہ رہتی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 11:08 AM IST | Agency | Agra
کچھ دوستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں عمرمیں قید نہیںکیاجاسکتا۔ وقت گزرتا ہے، زندگی نئے نئے رخ اختیار کرتی ہے لیکن بچپن کے دوستوں کی یادیں ہمیشہ دل میں تازہ رہتی ہیں۔
کچھ دوستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں عمرمیں قید نہیںکیاجاسکتا۔ وقت گزرتا ہے، زندگی نئے نئے رخ اختیار کرتی ہے لیکن بچپن کے دوستوں کی یادیں ہمیشہ دل میں تازہ رہتی ہیں۔ ایک ایسے دورمیں جبکہ اے آئی کے ذریعے لوگ یہ دیکھنا چاہ رہےہیںکہ وہ ۱۹۸۰ء میں ہوتے تو کیسے نظر آتے ، معمر افراد کے ایک گروپ نے حقیقت میںاورزمینی سطح پراس دور کو جینے کی دوبارہ کوشش کی ۔ ایسا ہی ایک دل کو چھو لینے والا ویڈیو اس وقت سامنے آیا جب ۱۹۷۶ء کے بیچ کے کچھ دوست تقریباً۵۰؍ سال بعد اپنے پرانے اسکول میں واپس آئے۔وہ پُرجوش انداز میں اور شورشرابہ کرتے ہوئے گیٹ کھول کر اسکول میں داخل ہوئے، خوب مستی کی اورایک دوسرے کو چھیڑ کربچپن کا لطف اٹھایا۔
انسٹاگرام یوزر راکیش ناگر نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں معمر افراد کا ایک گروپ اسکول پہنچا ہے۔ یہ سب ۱۹۷۶ء کےبیچ کے دوست ہیں جواسی اسکول میںپہنچے جہاں ان کا بچپن گزرا تھا۔ یہ افراد فارمل شرٹ اور پینٹ جو پرانے اسکول یونیفارم سے ملتا جلتا تھا، پہنے اسکول پہنچے۔ وہ۵۰؍ سال بعد اسکول پہنچے مگران کی روح اور ان کے چہروں کی چمک ویسی ہی رہی جیسی بچپن میں تھی۔ یعنی وہ ’عمر پچپن کی دل بچپن کا ‘کی جیتی جاگتی تصویر نظر آئے۔یہ اسکول آگرہ کا بتایا گیا ہے لیکن شہر کوئی بھی ہو،اسکول کوئی بھی ہو،فرق نہیںپڑتا ۔قابل دید ۵۰؍ سال بعد’طلبا‘کا دوبارہ ملنا ہے ۔ اسکول کے گیٹ کھول کرجب یہ بڑی عمر کے بچے کیمپس میںداخل ہوئے تو گویا وقت پھر ۱۹۷۶ء میںچلا گیا۔پرانے دوست یونیفارم پہنے ہوئے تھے ۔ کندھوں پر بیگ اور گلے میں رنگ برنگی پانی کی بوتلیں لٹکائے انہوں نے ان لمحات کو بھرپور انداز میںجینے کی کوشش کی ۔انہوں نے اسکول کے میدان میںگلی ڈنڈا اورنگوچا(سات پتھر) کھیلا ،کلاس میںادھم مچائی ، چھُک چھُک ریل بناکر کلاس کی بینچوںسے گزرے ۔یہ معمر بچے جب اسکول کی پرانی راہداریوں سےایک دوسرے کو چھیڑتے اور مذاق کرتے ہوئے گزرےتب ہر دیکھنے والے کو اپنے اسکول کازمانہ یادآگیا ۔ان خاص دنوں کو یاد کرتے ہوئے راکیش ناگر نے کہا کہ وہ اکثر سوچتے تھے کہ بچپن کے ان بے فکر دنوں میں لوٹنا کیسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکول میں آنے سے انہیں پرانے کھیل کھیلنے،ہنسی مذاق کرنےاور بچپن کو دوبارہ جینے کا موقع ملا اور پرانی یادوں کو تازہ کرنے والا یہ واقعہ بذات خود یادگار بن گیا۔