• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: معاون موت کو قانونی حیثیت دینے والا تاریخی بل ہاؤس آف کامن سے مسترد

Updated: September 12, 2026, 12:05 PM IST | London

برطانیہ میں معاون موت کو قانونی حیثیت دینے والا تاریخی بل ہاؤس آف کامن نے مسترد کردیا ہے، یہ قانون سازی جمعہ کو دوسری مرتبہ کے دوران مسترد ہوئی، جس میں۲۷۰؍ ارکان پارلیمان نے حق میں اور۲۸۶؍ نے مخالفت میں ووٹ دیا یعنی 16 ووٹوں کی اکثریت سے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 برطانیہ میں معاون موت کو قانونی حیثیت دینے والا تاریخی بل ہاؤس آف کامن نے مسترد کردیا ہے، یہ قانون سازی جمعہ کو دوسری مرتبہ کے دوران مسترد ہوئی، جس میں۲۷۰؍ ارکان پارلیمان نے حق میں اور۲۸۶؍ نے مخالفت میں ووٹ دیا یعنی ۱۶؍ ووٹوں کی اکثریت سے۔ یہ قانون سازوں کی قانون تبدیل کرنے کی دوسری کوشش تھی۔ گزشتہ سال، تقریباً اسی نوعیت کا بل، معاون موت بل، ہاؤس آف کامنز میں اراکین کی اکثریت کے ذریعے حمایت حاصل کرنے کے باوجود آگے نہ بڑھ سکا اور ہاؤس آف لارڈز میں پارلیمانی وقت ختم ہونے کی وجہ سے قانون نہ بن سکا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ اور اسرائیل میں ٹھن گئی، یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند

واضح رہے کہ تجویز کردہ بل کا مقصد ایسے بالغ افراد کو، جو لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوں اور جن کی زندگی چھ ماہ سے کم رہ گئی ہو، قانونی حق دینا تھا کہ وہ اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے طبی مدد حاصل کر سکیں۔ تجویز کے تحت، دو آزاد ڈاکٹروں کو تشخیص کی تصدیق کرنی ہوتی اور یہ یقینی بنانا ہوتا کہ فرد ذہنی طور پر درست حالت میں ہے اور یہ فیصلہ رضاکارانہ طور پر، بغیر کسی دباؤ کے کر رہا ہے۔بل میں کئی حفاظتی انتظامات بھی شامل تھے، جن میں لازمی انتظار کی مدت، ہر درخواست کی منظوری کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی ضرورت، اور یہ شرط شامل تھی کہ دوا لینے کا آخری عمل خود مریض ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں پر ردعمل

بعد ازاں بل کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ ناقابلِ برداشت درد میں زندگی کے آخری لمحات گزارنے والوں کو عزت اور انتخاب دینے کا معاملہ ہے، جبکہ مخالفین نے کمزور افراد پر دباؤ اور زندگی کی حرمت کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔پانچ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی جذباتی بحث کی جھلک پارلیمان کے باہر بھی دیکھی گئی۔ ووٹنگ کے وقت لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں سینکڑوں حامی مظاہرین اور مخالف مظاہرین جمع ہوئے۔مہم چلانے والے گروپ ”ڈگنٹی اِن ڈائنگ“ نے نتیجے کو ”ان سینکڑوں افراد کے لیے دل دہلا دینے والا دھچکا قرار دیا جو تکلیف میں مر رہے ہیں“، جبکہ مخالف گروپ ”کیئر ناٹ کِلنگ“ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اراکین پارلیمان نے ”کمزور افراد کے تحفظ کا انتخاب کیا ہے۔“ تاہم حکومت نے کہا ہے کہ اس معاملے پر اپنی قانون سازی پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، یعنی آئندہ کوئی بھی کوشش نجی رکن کے بل کے ذریعے ہی ہو گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK