Updated: August 03, 2026, 8:02 PM IST
| New Delhi
تیزاب حملے سے بچ جانے والی اور سماجی کارکن ریشم فاطمہ برطانیہ کی باوقار Chevening Scholarship حاصل کرنے والی ہندوستان کی پہلی ایسڈ اٹیک سروائیور بن گئی ہیں۔ وہ لندن کی SOAS University of London میں Gender, Violence and Conflict کے شعبے میں ماسٹرز کریں گی۔ ریشم کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ ان تمام خواتین کی ہے جنہوں نے تشدد کے باوجود ہار نہیں مانی۔
تیزاب حملے کی شکار اور خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ریشم فاطمہ نے ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے برطانوی حکومت کی باوقار Chevening Scholarship حاصل کر لی ہے۔ اس اعزاز کے ساتھ وہ Chevening Scholarship حاصل کرنے والی ہندوستان کی پہلی ایسڈ اٹیک سروائیور بن گئی ہیں۔ اس اسکالرشپ کے تحت وہ لندن کی SOAS University of London میں Gender, Violence and Conflict کے موضوع پر اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گی۔ لکھنؤ، اترپردیش سے تعلق رکھنے والی ۲۸؍ سالہ ریشم فاطمہ پر کم عمری میں تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں کئی سرجریوں، جسمانی تکالیف اور طویل ذہنی صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور بعد میں سماجی خدمت اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا:لائبریری سے۱۵۰؍ سال قبل لی گئی کتاب لوٹائی گئی، جرمانہ ۱۸؍ لاکھ۷۰؍ہزار
ایک انٹرویو میں ریشم فاطمہ نے کہا کہ ’’یہ ایسا صدمہ نہیں جسے آپ کبھی مکمل طور پر پیچھے چھوڑ سکیں، لیکن آپ اس کے ساتھ جینا ضرور سیکھ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں نہیں چاہتی کہ میری شناخت صرف ایک ایسڈ اٹیک سروائیور کے طور پر ہو۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ مجھے میرے کام، تعلیم اور اس تبدیلی سے پہچانیں جس کے لیے میں کوشش کر رہی ہوں۔‘‘ ریشم نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) سے سیاست (Politics) کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں Ebrah Foundation کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جو صنفی انصاف، تعلیم، ذہنی صحت اور تشدد کا شکار افراد کی بحالی کے لیے کام کرتی ہے۔ وہ اس سے قبل نیشنل بریوری ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ہندوستان واپس آ کر خواتین، خاص طور پر صنفی تشدد کا شکار افراد کے لیے پالیسی سازی اور قانون سازی کے شعبے میں کام کرنا چاہتی ہیں تاکہ متاثرین کو انصاف اور بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ واضح رہے کہ شیوننگ اسکالرشپ برطانوی حکومت کا عالمی سطح پر معروف پروگرام ہے، جس کے ذریعے مختلف ممالک سے نمایاں صلاحیت رکھنے والے طلبہ کو برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مستقبل کے لیڈروں، پالیسی سازوں اور سماجی تبدیلی لانے والوں کی تربیت کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بریج بھوشن شرن سنگھ خاتون پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کیس میں بری
ریشم فاطمہ کی کامیابی کو خواتین کے حقوق کے کارکنوں، تعلیمی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز نہ صرف ریشم کی ذاتی جدوجہد کا اعتراف ہے بلکہ ان تمام متاثرین کے لیے امید کا پیغام بھی ہے جو تشدد کے باوجود اپنی زندگی کو نئے سرے سے سنوارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔