Updated: August 03, 2026, 10:02 PM IST
| Gaza
فلسطینی وزارتِ تعلیم نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے مغربی علاقے میں واقع السوافر اسکول میں چھٹی جماعت کے ایک طالب علم خالد الاشرم کے ہاتھ میں اسرائیلی گولی اس وقت پیوست ہو گئی جب وہ کلاس روم میں اپنی میز پر بیٹھا قلم سے لکھ رہا تھا۔ وزارت نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں اور زیرِ تعلیم بچوں کو نشانہ بنانا زندگی اور تعلیم کے حق پر کھلا حملہ ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی وزارتِ تعلیم نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے مغربی حصے میں واقع السوافر اسکول (Al-Sawafir School) میں زیرِ تعلیم چھٹی جماعت کے طالب علم خالد الاشرم اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہو گئے۔ وزارت کے مطابق طالب علم اپنی کلاس میں میز پر بیٹھا قلم سے لکھ رہا تھا کہ ایک گولی اس کے ہاتھ کو چیرتی ہوئی کلائی میں جا کر پیوست ہو گئی۔ وزارتِ تعلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’بچے کے ننھے ہاتھ کو گولی نے اس وقت چیر دیا اور اس کی کلائی میں جا کر پیوست ہو گئی جب وہ اپنی اسکول کی میز پر بیٹھا ہاتھ میں قلم تھامے ہوئے تھا۔ یہ ایک ایسا المناک انسانی منظر ہے جو دل توڑ دیتا ہے اور معصومیت کا قتل کر دیتا ہے۔‘‘ وزارت نے بتایا کہ خالد الاشرم اسرائیلی براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بنے، جس کا ہدف مغربی غزہ میں واقع السوافر اسکول تھا۔ بیان کے ساتھ زخمی طالب علم کے خون آلود ہاتھ کی تصویر بھی جاری کی گئی، جس میں گولی ہاتھ کو پار کرتی ہوئی کلائی میں پھنسی ہوئی دکھائی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: بھینس کے گوشت کی فراہمی معطل، علی پور چڑیا گھر میں شیروں کو مٹن دیا جانے لگا
وزارتِ تعلیم نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’تعلیمی اداروں کو مسلسل نشانہ بنانا، اور بچوں پر اس وقت حملہ کرنا جب وہ کلاس روم میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں، ایک کثیرالجہتی جرم اور زندگی اور تعلیم کے حق پر کھلا حملہ ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک ۱۲۵۰؍ فلسطینی ہلاک اور ۴۱۱۰؍ زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کو ’’محض ایک فریب‘‘ بنا دیا ہے، کیونکہ حملے جاری ہیں جبکہ سرحدی گزرگاہیں بھی بڑی حد تک بند رکھی گئی ہیں اور صرف محدود مقدار میں انسانی امداد کو داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مودی پر نازیبا ریمارکس: ہراسانی کے بعد ۱۵؍سالہ طالبہ کی ماں گھر چھوڑنے پر مجبور
رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ موجودہ جنگ بندی اس جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی جو ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو شروع ہوئی۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اس جنگ میں اب تک ۷۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۴؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ کے تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسکولوں پر حملوں اور مسلسل عدم تحفظ کے باعث غزہ کے بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے۔ فلسطینی وزارتِ تعلیم نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اسکولوں کو محفوظ مقامات کے طور پر یقینی بنایا جائے۔