Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا

Updated: August 21, 2026, 5:02 PM IST | Gaza

ہند رجب کی دادی نے بدھ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کی پوتی کی ہلاکت کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کے خاندان کو اسرائیلی تحقیقات پر کوئی اعتماد نہیں، بلکہ وہ ایک آزاد بین الاقوامی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہند رجب کی دادی نے بدھ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کی پوتی کی ہلاکت کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کے خاندان کو اسرائیلی تحقیقات پر کوئی اعتماد نہیں، بلکہ وہ ایک آزاد بین الاقوامی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ان کا یہ بیان اسرائیلی فوج کے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا کہ اس کی فوج نے جنوری ۲۰۲۴ء میں غزہ شہر میں ہند رجب کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی، ساتھ ہی فوج نے اس کی موت کی مجرمانہ تحقیقات کا اعلان بھی کیا۔ اس کے علاوہ فوج نے مارچ ۲۰۲۵ء میں رفح میں ۱۵؍ امدادی اور طبی کارکنوں کی ہلاکت پرعلاحدہ تحقیقات کا بھی اعلان کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے بالآخر ہند رجب کے قتل کا اعتراف کرلیا

خبررساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے ہند رجب کی دادی نے کہا کہ خاندان اسرائیلی عدلیہ پر بھروسہ نہیں کرتا اور یہ سمجھتا ہے کہ ہند رجب، اس کے ماموں، ان کی بیوی اور ان کے بچوں کو لے جانے والی شہری گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے ہند رجب، اس کے چھ رشتہ داروں اور دو فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے طبی عملے کے افرادجو انہیں بچانے کے لیے بھیجے گئے تھے کی ہلاکت پر آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’ہم صرف ہند کے نام پر انصاف کا مطالبہ نہیں کر رہے جو غزہ کی ایک بچی ہے، بلکہ غزہ کے تمام ہمارے شہید بچوں کے نام پر کر رہے ہیں۔‘‘
مزید برآں ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھی اسرائیلی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے انصاف کی جانب کوئی حقیقی قدم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔دادی کے مطابق، ہند اپنے ماموں، ان کی بیوی اور ان کے بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھی جب خاندان اسرائیلی بمباری اور لڑائی سے بچنے کی کوشش کررہا تھا اور غزہ شہر میں فارس پٹرول اسٹیشن کے قریب ان کی گاڑی کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ہند کی کزن لیان گھنٹوں تک رشتہ داروں سے فون پر رابطے میں رہی اور مدد کی التجا کرتی رہی، پھر ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد میں خاندان نے ہند سے فون پر رابطہ کیا اور پتہ چلا کہ وہ زندہ ہے۔ انہوں نے فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ ایمبولینس بھیجنے کے لیے رابطہ قائم رکھا، لیکن جیسے ہی طبی عملہ علاقے کے قریب پہنچا، رابطہ ٹوٹ گیا۔دادی کے مطابق، اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد خاندان کو گولیوں سے چھلنی گاڑی ملی جس میں ہند اور چھ رشتہ دار مردہ پائے گئے، اور انہیں بچانے بھیجے گئے دو طبی عملہ بھی مردہ ملے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ، ایران کی نئے ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

بعد ازاں جب فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے ساتھ اس کی آخری کال کی آڈیو ریکارڈنگ، جس میں اس نے مدد کی فریاد کی، عوام میں جاری کی گئی تو یہ معاملہ عالمی سطح پر غم و غصے کا باعث بنا۔ ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۴ء کے اس فون کال کے کئی دن بعد ان کی لاشیں ملی۔اسرائیلی فوج نے پہلے انکار کیا تھا کہ اس کی فوج واقعے کے قریب موجود تھیں، تاہم بصری اور سمعی شواہد پر مبنی آزاد تحقیقات نے بعد میں اس علاقے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کی نشاندہی کردی۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں نسل کشی کی جنگ شروع کی تب سے اب تک ۷۳۰۰۰؍ زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK