Updated: February 23, 2026, 7:00 PM IST
| London
برٹش میوزیم کی قدیم مشرقِ وسطیٰ گیلریوں سے ’’فلسطین‘‘ کا حوالہ ہٹانے کے بعد لندن میں مظاہرہ کیا گیا۔ میوزیم نے لیبلز میں تبدیلی کرتے ہوئے ’’فلسطین‘‘ کی جگہ ’’کنعان‘‘ اور ’’کنعانی نسل‘‘ کی اصطلاحات استعمال کیں، جسے ناقدین نے فلسطینی تاریخ کو مٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
برٹش میوزیم۔ تصویر: آئی این این
لندن میں سنیچر کو برٹش میوزیم کے باہر مظاہرین اس وقت جمع ہوئے جب خبریں آئیں کہ میوزیم نے اپنی قدیم مشرقِ وسطیٰ گیلریوں میں لیبلز تبدیل کر دیے ہیں۔ نمائشوں، جن میں قدیم مصر اور فونیقی تہذیب سے متعلق حصے شامل ہیں، میں ’’فلسطین‘‘ کی اصطلاح کو ہٹا کر ’’کنعان‘‘ اور ’’کنعانی نسل‘‘ سے بدل دیا گیا۔ میوزیم نے وضاحت کی کہ متعلقہ تاریخی ادوار کے لیے ’’فلسطین‘‘ بطور جغرافیائی اصطلاح ’’معنی خیز‘‘ نہیں تھی، اس لیے اسے تبدیل کیا گیا۔
ماہرین کی تنقید
مورخین، قانونی ماہرین اور کارکنوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ فلسطینی تاریخ اور شناخت کو کمزور کرنے یا مٹانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ مظاہرے سے خطاب کرنے والوں نے میوزیم اور برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ فلسطین میں جاری تنازع کے تناظر میں جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
لابنگ گروپ کا خط
رپورٹس کے مطابق، لیبلز میں تبدیلی ایک ایسے خط کے بعد کی گئی جو یو کے لائرز فار اسرائیل نامی گروپ کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جس میں نمائشوں میں ’’فلسطین‘‘ کے استعمال پر اعتراض کیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ برطانیہ کی ثقافتی، تعلیمی اور عوامی اداروں میں فلسطین سے متعلق حوالوں کو چیلنج کرنے کی منظم مہم چلا رہا ہے۔
میوزیم کا مؤقف
برٹش میوزیم نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ اس نے کسی بیرونی دباؤ کے تحت اقدام اٹھایا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ لیبلز میں تبدیلی خالصتاً ’’کیوریٹوریل ججمنٹ‘‘ یعنی علمی اور تحقیقی بنیادوں پر کی گئی۔ میوزیم حکام کے مطابق، نمائشوں کا مقصد قدیم تہذیبوں کی درست تاریخی نمائندگی کرنا ہے، اور استعمال شدہ اصطلاحات متعلقہ ادوار کے مطابق منتخب کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ثقافتی اداروں کے کردار، تاریخی بیانیے اور موجودہ سیاسی تناظر کے درمیان تعلق پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ثقافتی ادارے محض غیر جانب دار علمی مقامات نہیں بلکہ تاریخی یادداشت کے محافظ ہوتے ہیں، اس لیے اصطلاحات کی تبدیلی کو محض تکنیکی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔