• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوکرین: روسی حملوں کے بعد کیف کی ہزاروں بلند و بالا عمارتیں بجلی سے محروم: میئر

Updated: January 21, 2026, 12:15 PM IST | Kyiv

یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مئیر نے کہا کہ روسی حملوں کے بعد کیف کی ہزاروں بلند و بالا عمارتیں بجلی سے محروم ہو گئی ہیں، سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کوکیف اور اس کے گردونواح پر روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا اور۵۶۰۰؍ سے زائد بلند عمارتوں میں حرارتی نظام سے بند ہوگیا۔

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مئیروٹالی کلیچکو کے مطابق د ارالحکومت پرروس کے حملے کے بعد ۵۶۳۵؍بلند عمارتیں بغیر حرارتی نظام کے ہیں، اور مزید کہا کہ۹؍ جنوری کو متاثرہ عمارتوں کے تقریباً ۸۰؍ فیصد حرارتی نظام بحال ہو گئے۔کلیچکو کے مطابق شہر کے بائیں سرحد پر پانی کی فراہمی منقطع ہے، جبکہ سماجی بنیادی ڈھانچے کی سہولیات خلل کی وجہ سے خود مختار بجلی کے ذرائع پر منتقل ہو رہی ہیں۔کیف علاقے کے گورنر میکولا کالاشنک کے مطابق بوچا ضلع میں ایک شخص روسی حملے میں ہلاک ہوا۔ کالاشنک نے بتایا کہ دو گیس اسٹیشن بھی متاثر ہوئے، اور ہنگامی عملہ متاثرہ شخص کو بچانے میں ناکام رہا جو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔دریں اثناءگزشتہ ہفتے، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے تیز تر بجلی درآمدات کا حکم دیا تھا کیونکہ ملک سخت سرد موسم اور روسی حملوں کی وجہ سے ہنگامی حالت کا شکار ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: اسپین میں بھیانک ٹرین حادثہ، تیز رفتار ٹرینیں ٹکراگئیں، ۳۹؍ ہلاک، زائد از ۱۲۰؍ زخمی

واضح رہے کہ ۹؍ جنوری کی بمباری نے دارالحکومت میں تقریباً۶۰۰۰؍بلند عمارتوں  کو حرارتی نظام سے محروم کر دیا تھا، جس کے بعد کلیچکو نے رہائشیوں سے عارضی طور پر انخلا کی اپیل کی تھی۔روس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ گزشتہ سال صدر ولادیمیر پوتن کے نووگورود علاقے میں واقع رہائش گاہ پر یوکرینی ڈرون حملے کی کوشش کے جواب میں کیا گیا تھا۔تاہم کیف نے یہ کہتے ہوئے  فوری طور پر اس دعوے کی تردید کی، کہ یہ الزامات جنگ ختم کرنے کی سفارتی کاوشوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کابل کے ہائی سیکوریٹی زون میں دھماکہ، کم از کم ۷؍ افرادجاں بحق

واضح رہے کہ گزشتہ چار سالوں سے روس اور یوکرین کے مابین مسلح تصادم جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں،جبکہ دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کی کوششیں بھی جاری ہیں،اسی کوشش کے طور پر ٹرمپ نے ۲۸؍ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا ہے، تاہم دونوں فریق اس کی کچھ شقوں سے اختلاف رکھتے ہیں، اور وقتاً فوقتاً ایک دوسرے پر حملہ جاری رکھے ہیں۔ یوکرین پر ڈروں اور اور میزائل سے روسی حملہ اسی جنگ کا ایک سلسلہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK