Updated: April 25, 2026, 7:07 PM IST
| New Delhi
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ روس میں پھنسے ۲۶؍ ہندوستانیوں میں سے ۱۰؍ یوکرین جنگ کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کے مطابق بیشتر افراد نے رضاکارانہ طور پر روسی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، جبکہ کچھ کو ایجنٹوں نے گمراہ کیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں متاثرہ خاندانوں نے حکومتی بے عملی کا الزام لگایا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے گزشتہ دن سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران انکشاف کیا کہ روس میں موجود ۲۶؍ ہندوستانی شہریوں میں سے ۱۰؍ یوکرین میں جاری جنگ کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وہی افراد ہیں جن کے اہل خانہ نے ان کی بحفاظت واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت میں پیش ہونے والے سرکاری مؤقف کے مطابق، ان میں سے بیشتر افراد نے روسی فوج میں رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی تھی، جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جنہیں مبینہ طور پر بےایمان ایجنٹوں نے ملازمت کے بہانے روس لے جا کر فوج میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔
یہ معاملہ اس وقت زیر غور آیا جب چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی جو متاثرہ خاندانوں نے دائر کی تھیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے عزیز روس روزگار کی تلاش میں گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں یوکرین جنگ میں لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ سماعت کے دوران متاثرہ خاندانوں نے وزارت خارجہ پر سنگین الزامات عائد کیے، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ حکام نے ان سے رابطہ نہیں رکھا، ڈی این اے نمونے نہیں لیے اور مناسب مدد فراہم نہیں کی۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ’’ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں، یہ صرف غیر عملی نہیں بلکہ مکمل لاتعلقی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سے بنی میناشی کمیونٹی کے ۲۴۰؍ یہودی اسرائیل پہنچے، آبادکاری پر تنازع
اس کے جواب میں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ افراد کو ایجنٹوں نے دھوکہ دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ ’’بہت سے افراد نے روسی اداروں کے ساتھ رضاکارانہ معاہدے کیے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے ۱۰؍ افراد کے علاوہ ایک شخص روس میں فوجداری مقدمے میں جیل میں ہے، جبکہ ایک اور اب بھی رضاکارانہ طور پر فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ روس نے فروری ۲۰۲۲ء میں یوکرین پر حملہ شروع کیا تھا، جس کے بعد یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے مہلک تنازعہ پیدا ہوا۔ اس جنگ کے دوران کئی غیر ملکی شہری مختلف طریقوں سے اس میں شامل ہوئے، جن میں ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ مرکزی حکومت پہلے بھی پارلیمنٹ کو بتا چکی ہے کہ روسی فوج میں شامل ۲۰۶؍ ہندوستانیوں میں سے ۲۶؍ ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ حکومت کے مطابق، اب تک ۱۱۹؍ ہندوستانیوں کو روسی فوج سے فارغ کرایا جا چکا ہے اور باقی افراد کی واپسی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میں جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا: پوپ لیو نے ایران کی صورتحال کو پیچیدہ قرار دیا
حکام نے یہ بھی کہا کہ وزارت خارجۂ ہند نے بارہا ایڈوائزری جاری کر کے شہریوں کو روسی فوج میں شامل ہونے سے خبردار کیا ہے۔ ساتھ ہی، روس میں ہندوستانی سفارتی مشن متاثرہ افراد کی واپسی، سفری دستاویزات اور لاشوں کی شناخت کے عمل میں بھی مدد فراہم کر رہا ہے، جس میں ڈی این اے میچنگ شامل ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم بن چکا ہے، اور عدالت کی آئندہ سماعت میں اس پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔