اسی سال مئی سے انہیں صرف ایک مرتبہ یہ سہولت دی جارہی تھی جس کیخلاف عمر خالد نے اپیل کی تھی۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 9:58 AM IST | New Delhi
اسی سال مئی سے انہیں صرف ایک مرتبہ یہ سہولت دی جارہی تھی جس کیخلاف عمر خالد نے اپیل کی تھی۔
یہاں کی ایک عدالت نے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے میں گزشتہ ۶؍ برس سے جیل میں بند سابق طلبہ لیڈر عمر خالد کو بڑی راحت دیتے ہوئے ہفتے میں دو بار اپنے اہل خانہ سے ویڈیو کال پر گفتگوکی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ عمر خالد نے جیل میں قیام کے دوران کسی بھی جیل ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی اس لئے انہیں یہ سہولت فراہم کی جانی چا ہئے۔عمر خالد نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ہفتے میں دو بار ویڈیو کال کے ذریعے اپنی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے گفتگو کی اجازت دی جائے۔ ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل جانے کے بعد سے انہیں ہر ہفتے دو ’’ای ملاقاتوں‘‘ کی سہولت حاصل تھی، تاہم اسی سال مئی سے انہیں بغیر کوئی وجہ بتائے اس سہولت کو کم کرکے ہفتے میں ایک بار کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سونم کی بھوک ہڑتال کا ۱۹؍ واں دن، حکومت تماشائی مگر عوامی حمایت میں اضافہ
عمر خالد کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئےایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے اپنے حکم میں کہا کہ عمر خالد گزشتہ۶؍ برس سے مسلسل اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے دہلی جیل قواعد و ضوابط کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ عدالت نے اس بنیاد پر انہیں دوبارہ ہفتے میں دو بار ای ملاقات کی اجازت دے دی۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد سے بات چیت کے لئے ہفتے میں دو ای ملاقاتوں کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان کا جیل میں رویہ اطمینان بخش ہے اور ان کے خلاف جیل قوانین کی خلاف ورزی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور نہ کوئی شکایت ہے۔ دوسری جانب جیل انتظامیہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ جیل ضوابط کے مطابق عمر خالد ہفتے میں صرف ایک ای ملاقات کے حق دار ہیں۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ چونکہ انہیں گزشتہ چھ برس سے ہفتے میں دو ای ملاقاتوں کی سہولت حاصل رہی ہے، اس لئے اس سہولت کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔واضح رہے کہ عمر خالد۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق مبینہ سازش کے کیس میں بغیر کسی عدالتی کارروائی یا مقدمہ کےجیل میں قید ہے۔ اسے رہا کیا جارہا ہے اور نہ ضمانت دی جارہی ہے۔