چیف جسٹس سوریہ کانت سے بڑی بنچ بنانے کی اپیل ،ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے عبد الخالد سیفی اور تسلیم احمد کومخصوص شرائط کے ساتھ ۶؍ ماہ کی عبوری ضمانت دی
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 12:31 AM IST | New Delhi
چیف جسٹس سوریہ کانت سے بڑی بنچ بنانے کی اپیل ،ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے عبد الخالد سیفی اور تسلیم احمد کومخصوص شرائط کے ساتھ ۶؍ ماہ کی عبوری ضمانت دی
سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں ملزم عبد الخالد سیفی اور تسلیم احمد کو ۶؍ماہ کی عبوری ضمانت دینے کے ساتھ اس اہم قانونی سوال کو ایک بڑی آئینی بنچ کے سپرد کر دیا کہ آیا کسی شخص کو مقدمے میں غیر معمولی تاخیر اور طویل حراست کے باوجود، سخت ضمانتی قوانین کے تحت جیل میں رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ معاملہ عمر خالد اور شرجیل امام کا ہے جودہلی فسادات کے کیس میں یو اے پی اے جیسے انتہائی سخت قانون کے تحت ۵؍ سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ وہ حالیہ فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی، جو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجل بھوئیاں کی بنچ نے دیا تھا لیکن اس معاملے کو وسیع تر بنچ کے حوالے کرنے کی سفارش ضرور کرے گی۔بنچ نے رجسٹرار کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کو مذکورہ سوال کے ساتھ پیش کریں اور چیف جسٹس سے وسیع تر بنچ بنانے کی اپیل کریں۔
یاد رہے کہ جسٹس اجل بھوئیاں نے ۵؍ جنوری کے اس حکم پر تنقید کی تھی جس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔دہلی پولیس نے بھی مذکورہ معاملے میں سبکی سے بچنے کیلئے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس قانونی سوال کو بڑی بنچ کے سامنے رکھا جائے۔ بہر حال بنچ نے یہ معاملہ تسلیم کرلیا اور کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے کا فیصلہ ان کے کردار اور ان پر عائد مخصوص الزامات کا انفرادی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے میں آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کو دیگر نکات سے کم اہمیت نہیں دی گئی ہے۔
حالانکہسماعت کے دوران دہلی پولیس نے دلیل دی کہ مقدمے میں تاخیر یا طویل حراست کو خود بخود یواے پی اےکے تحت ضمانت کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ پولیس کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے سوال اٹھایا کہ اگر اسی اصول کو مان لیا جائے تو کیا اجمل قصاب حافظ سعید جیسے دہشت گرد بھی طویل سماعت کی بنیاد پر راحت مانگ سکتے ہیں؟ایس وی راجو نے دلیل دی کہ اجمل قصاب کے مقدمے میں بھی متعدد گواہوں کی وجہ سے کئی برس لگے تھےلیکن صرف تاخیر کو بنیاد بنا کر ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ ہر معاملہ مختلف ہوتا ہے۔