• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

واشنگٹن پوسٹ میں چھٹنی: ششی تھرور کے بیٹے ایشان برطرف، صحافیوں کا ردعمل

Updated: February 05, 2026, 3:22 PM IST | Washington

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کی برطرفی کے بعد متعدد صحافیوں، جن میں ششی تھرور کے بیٹے ایشان تھرور بھی شامل ہیں، نے خاموشی توڑ ی۔ متاثرہ عملے نے ان کٹوتیوں کو ادارے کے لیے ’’انتہائی مشکل دور‘‘ قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق فیصلے مالی دباؤ اور تنظیمِ نو کے تحت کیے گئے۔

Ishan Tharoor photo: X
ایشان تھرور۔ تصویر: آئی این این

معروف امریکی اخبار The Washington Post میں حالیہ دنوں ہونے والی بڑی پیمانے کی برطرفیوں کے بعد متاثرہ صحافیوں نے عوامی طور پر ردعمل ظاہر کیا۔ فنانشیل ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ان برطرفیوں میں اخبار کے متعدد تجربہ کار صحافی شامل ہیں، جن میں بین الاقوامی امور کے معروف کالم نگار ایشان تھرور بھی شامل ہیں، جو ہندوستانی سیاستداں ششی تھرور کے بیٹے ہیں۔ ایشان تھرور نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن پوسٹ میں پیش آنے والی حالیہ برطرفی ادارے کی تاریخ کے ’’انتہائی تاریک دنوں‘‘ میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنے ساتھیوں اور اس نیوز روم کے لیے شدید غم ہے، جس نے برسوں تک عالمی صحافت میں نمایاں کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ نے تنظیمِ نو کے عمل کے تحت مختلف شعبوں میں عملے کی تعداد کم کی ہے۔ ان کٹوتیوں کا اثر بین الاقوامی رپورٹنگ، فیچرز اور دیگر اہم ڈیسک پر بھی پڑا ہے۔ اخبار کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مالی دباؤ، اشتہار سے ہونے والی آمدنی میں کمی اور بدلتے ہوئے ڈجیٹل میڈیا ماحول کے باعث ناگزیر ہو گئے تھے۔ برطرف کیے گئے دیگر صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بعض سابق ملازمین نے ان فیصلوں کو ’’اچانک‘‘ اور ’’سخت‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ اس سے ادارے کی گہرائی پر مبنی رپورٹنگ کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ متاثرہ عملے کے مطابق کئی تجربہ کار رپورٹرز اور ایڈیٹرز کا جانا واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی ڈھانچے میں ایک بڑا خلا پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: ہاتھی کی سواری پر پابندی، ایسا کرنے والا پہلا ایشیائی ملک

فنانشیل ایکسپریس کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ کی انتظامیہ نے ملازمین کو آگاہ کیا کہ تنظیمی تبدیلیوں کا مقصد اخبار کو طویل مدت میں مستحکم بنانا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈجیٹل سبسکرپشن ماڈل اور قارئین کی بدلتی عادات کے پیش نظر اخراجات میں کمی ضروری تھی، تاکہ ادارہ مستقبل میں اپنی صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے۔ ایشان تھرور، جو برسوں سے عالمی سیاست اور بین الاقوامی امور پر لکھتے رہے ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ واشنگٹن پوسٹ میں گزارے گئے وقت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس نیوز روم میں کام کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔خیال رہے کہ یہ چھٹنی ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ سمیت دنیا بھر کے بڑے میڈیا ادارے مالی دباؤ اور ڈجیٹل منتقلی کے باعث ملازمتوں میں کٹوتیاں کر رہے ہیں۔ میڈیا ماہرین کے مطابق، روایتی اخبارات کے لیے قارئین کو برقرار رکھنا اور آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے مزید برطرفیوں یا ادارتی تبدیلیوں کے بارے میں کوئی تفصیلی ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم متاثرہ صحافیوں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مرحلہ ادارے اور اس کے عملے دونوں کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK