Updated: April 03, 2026, 2:42 PM IST
| New York
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس کے عالمی سطح پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور ایران پر زور دیا کہ وہ دشمنیوں کو فوری طور پر بند کریں اور مذاکرات کو ترجیح دیں۔
انتونیو غطریس۔ تصویر: آئی این این
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیاایک وسیع جنگ کے کنارے پر کھڑی ہے جو مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ غطریس نے جمعرات کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ہم ایک وسیع جنگ کے کنارے پر ہیں جو مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور دنیا بھر پر ڈرامائی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔‘‘غطریس نے براہ راست اہم فریقوں سے مخاطب ہوتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل سے کہا کہ وہ جنگ بندی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ یہ وقت ہے کہ اس جنگ کو روکا جائے جو انسانی مصائب میں شدت پیدا کر رہی ہے اور پہلے ہی تباہ کن اقتصادی نتائج کا باعث بن رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کو فوجی کارروائی سے کھولنا غیر حقیقت پسندانہ ہے: ایمانوئل میکرون
انہوں نے ایران سے بھی اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تنازعات خود بخود ختم نہیں ہوتے بلکہ صرف اس وقت ختم ہوتے ہیں جب لیڈرتبادلۂ خیال کو تباہی پر ترجیح دیتے ہیں۔ غطریس نے عالمی اقتصادی اثرات پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ ہرمز کی تنگی کے نتیجے میں اہم اشیاء کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ جب ہرمز کی تنگی ہو جاتی ہے، تو دنیا کے سب سے غریب اور سب سے زیادہ کمزور لوگ سانس نہیں لے پاتے۔ ‘‘