Updated: September 27, 2026, 4:03 PM IST
| New York
دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور تنازعات کے اثرات اب صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے باعث عالمی سطح پر خوراک، توانائی، کھاد اور نقل و حمل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک نے اس صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں سے پیدا ہونے والی تجارتی اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کا بوجھ ایسے ممالک بھی اٹھا رہے ہیں جو خود کسی تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ۔ تصویر:آئی این این
دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور تنازعات کے اثرات اب صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے باعث عالمی سطح پر خوراک، توانائی، کھاد اور نقل و حمل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک نے اس صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں سے پیدا ہونے والی تجارتی اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کا بوجھ ایسے ممالک بھی اٹھا رہے ہیں جو خود کسی تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔
ہندوستان نے اقوام متحدہ میں اس بات پر زور دیا کہ مسلح تنازعات کے نتیجے میں توانائی کی منڈیوں، کھاد کی فراہمی، سمندری نقل و حمل، انسانی امداد اور زرعی تجارت میں خلل پیدا ہوتا ہے، جس کے اثرات عالمی غذائی تحفظ پر پڑتے ہیں۔ ہندوستانی نمائندے کے مطابق درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک ایسے بحرانوں سے خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر ہونے والی گفتگو میں بتایا گیا کہ بحیرۂ اسود، آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی تجارت کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ ان راستوں سے توانائی، اناج، کھاد اور دیگر اہم اشیا کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی ) کے قائم مقام سربراہ کارل اسکاؤ نے خبردار کیا ہے کہ اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے نتیجے میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مزید لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی بحث میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا۔ تیل اور گیس مہنگی ہونے سے بجلی، صنعت، نقل و حمل، زرعی پیداوار اور کھاد کی لاگت بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ترقی پذیر معیشتوں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جبکہ بلند توانائی اور خوراک کی قیمتیں کم آمدنی والے خاندانوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عالمی یومِ سیاحت: سفر ایک ایسا استاد ہے جو کلاس روم سے باہر نکل کر سبق دیتا ہے
اقوام متحدہ کی ایک حالیہ بحث میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور کھاد کی قیمتوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ اس میں بتایا گیا کہ توانائی کے جھٹکوں کے اثرات ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین سے ہوتے ہوئے روزمرہ اشیا کی قیمتوں اور غذائی تحفظ تک پہنچتے ہیں۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ جنگ کے براہِ راست فریق نہ ہونے والے ممالک بھی اس کے معاشی نتائج سے محفوظ نہیں رہتے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہندوستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے درآمدی مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ اور مجموعی اقتصادی سرگرمی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ہندوستان کے اقوام متحدہ میں دیے گئے بیان کے مطابق توانائی، کھاد اور دیگر اشیا کی سپلائی میں رکاوٹیں صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ہندوستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غذائی عدم تحفظ بنیادی طور پر جنگ، سیاسی عدم استحکام اور ترقی کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کو تنازعات کے خاتمے، تجارتی راستوں کے تحفظ اور متاثرہ ممالک کی غذائی و اقتصادی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں ہونے والی بحث کے مطابق آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ توانائی، کھاد اور شپنگ مارکیٹوں پر وسیع اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ بحیرۂ اسود اور بحیرۂ احمر میں رکاوٹیں اناج اور دیگر زرعی مصنوعات کی عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس طرح کسی ایک خطے کا تنازع ہزاروں کلومیٹر دور موجود ممالک میں بھی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’مسلسل سیکھتے ہوئے اداکاری کو بہتر بنانا ہی میرا ہدف ہے‘‘
ورلڈ فوڈ پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ یمن جیسے ممالک، جو اپنی خوراک کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، عالمی تجارت میں رکاوٹوں سے خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ یمن میں پہلے ہی ۸ء۱؍کروڑ سے زیادہ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پانچ سال سے کم عمر تقریباً۲۲؍لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے علاوہ متعدد ممالک نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ جنگوں کے معاشی اثرات سرحدوں سے بہت آگے تک پہنچ رہے ہیں۔ مختلف ممالک نے کشیدگی کم کرنے، آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے، تجارتی راستوں کے تحفظ اور سمندری عملے کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا۔ مجموعی طور پر اقوام متحدہ کی حالیہ بحث میں یہ پیغام سامنے آیا کہ عالمی غذائی تحفظ صرف زرعی پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ امن، توانائی، تجارت، کھاد، سمندری نقل و حمل اور عالمی سپلائی چین سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ جاری تنازعات میں کمی اور اہم تجارتی راستوں کی حفاظت کے بغیر خوراک اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔