Updated: September 18, 2026, 6:02 PM IST
| New York
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے فلسطینی شرکت کی حمایت کی،تاہم امریکی ویزا نہ ملنے کے سبب صدر محمود عباس ویڈیو کے ذریعے اجلاس سے خطاب کریں گے، فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ۱۵۲؍ ممالک نے قرارداد کی حمایت کی جس میں امریکہ پر زور دیا گیا کہ وہ وفد کو ذاتی طور پر۸۱؍ ویں اجلاس میں شرکت سے روکنے کے فیصلے کو واپس لے۔
صدر محمود عباس۔ تصویر: آئی این این
فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد کی حمایت کی جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینی وفد کو۸۱؍ ویں اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت سے روکنے کے اپنے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔وزارت نے کہا کہ۱۵۲؍ ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، امریکی فیصلے کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔وزارت نے کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس مقررہ تاریخ اور وقت پر ویڈیو کے ذریعے جنرل اسمبلی سے اپنا خطاب کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہو گا، محمود عباس شرکت سے محروم
وزارت نے یہ کہتے ہوئے کہ ووٹ فلسطین کو جنرل اسمبلی میں حصہ لینے سے روکنے کی کوششوں کو مسترد کرنے کی نمائندگی کرتا ہے، قرارداد کی سرپرستی اور حمایت کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔واضح رہے کہ واشنگٹن نے جمعرات کو فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے اراکین پر ویزا پابندیوں میں توسیع کی، جس کے ذریعے عباس اور دیگر سینئر فلسطینی عہدیداروں کو نیویارک میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں ذاتی طور پر شرکت سے روکا گیا۔اس تعلق سے امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ فلسطینی قیادت وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی ذمہ دار ہے۔ جبکہ فلسطینی حکام نے امریکی جواز کو ’’بلاجواز‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا۸۱؍ واں اجلاس۸؍ ستمبر کو شروع ہوا، جس کی اعلیٰ سطحی جنرل بحث۲۲؍ ستمبر کو شروع ہونا طے ہے۔