Updated: September 18, 2026, 3:08 PM IST
| Washington
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو، جن کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں آئی سی سی نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دوسری جانب امریکی ویزا پابندیوں کے باعث فلسطینی صدر محمود عباس اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے اور امکان ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔
فلسطینی صدر محمود عباس اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو، جنہیں غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) مطلوب قرار دے چکی ہے، نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس، جن کے عوام نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں، واشنگٹن کی ویزا پابندیوں کے باعث نیویارک کا سفر نہیں کر سکتے۔ گزشتہ سال کی طرح امریکی انتظامیہ نے ایک بار پھر محمود عباس کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے۔ نتیجتاً توقع ہے کہ عباس اس سال بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ ۱۹۴۷ء کے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکہ پر لازم ہے کہ وہ رکن اور مبصر ممالک کے نمائندوں کو نیویارک میں داخلے کی اجازت دے۔ تاہم، امریکہ نے مسلسل دو سال سے عباس اور ان کے وفد کو ویزا دینے سے انکار کیا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پنک کو یونیسیف سفیر کے عہدے سے ہٹانے کی پٹیشن پر ۶۰؍ ہزار دستخط
جس طرح فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے لیڈر یاسر عرفات کے دور میں کیا گیا تھا، واشنگٹن نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت کو سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس کے تحت ویزوں، ٹرانزٹ اجازت ناموں اور فلسطینی وفود کی تعداد پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں بھی امریکہ نے اس وقت کے فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا، جب وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنا چاہتے تھے۔ ایک ایسے لیڈر کو اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں خطاب کا موقع دیا جا رہا ہے جس پر آئی سی سی نے ’’جنگ کے ایک طریقے کے طور پر بھوک کو استعمال کرنے اور شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے‘‘ کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ میزبان ملک امریکہ اس جائز فلسطینی لیڈر کو یہی موقع دینے سے انکار کر رہا ہے، جس کے عوام مارے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں تعلیمی آزادی شدید طور پرمحدود، حکومت کے اثر ورسوخ میں اضافہ: رپورٹ
امریکہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی قابضین، جنہوں نے فلسطینی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، اور اسرائیلی فوج کی جانب سے تشدد میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے اور فلسطینی زمین پر غیر قانونی قبضوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے تشدد میں بھی شدت آئی ہے۔
آئی سی سی کو مطلوب نیتن یاہو کا جنرل اسمبلی سے خطاب ہوگا
آئی سی سی نے ۲۱؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کی درخواست کے بعد جاری کیے گئے یہ وارنٹ روم اسٹیچوٹ کے فریق ۱۲۰؍ سے زیادہ ممالک کے لیے پابند ذمہ داری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کی میزبانی کرنے والا امریکہ روم اسٹیچوٹ کا فریق نہیں ہے اور وہ بین الاقوامی عدالت کو مطلوب ایک شخص کی نیویارک میں میزبانی کر رہا ہے۔ چنانچہ نیتن یاہو کا اس سال بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہوگا، جیسا کہ گزشتہ سال ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شہزادی ڈائنا کے بھائی کی کتاب میں سنسنی خیز دعوؤں پر تنازع، شاہی خاندان کے ساتھ لفظی جھڑپیں
نیتن یاہو کی تقریر کے دوران احتجاج متوقع
ستمبر ۲۰۲۵ء کے اجلاس کے دوران جب نیتن یاہو جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کے لیے پوڈیم پر پہنچے تو درجنوں سفارتکار اجلاس ہال سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں ان کی تقریر کے دوران ایوان کا بیشتر حصہ خالی نظر آیا۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیلی حملوں کے مخالف مظاہرین نے نیویارک کے ٹائمز اسکوائر کے باہر جمع ہو کر نیتن یاہو اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس سال بھی کئی ممالک کے سفارتکاروں کی جانب سے نیتن یاہو کی تقریر کے دوران اجلاس ہال سے واک آؤٹ کر کے سفارتی بائیکاٹ کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ سربراہی اجلاس کے دوران نیویارک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج بھی متوقع ہے۔
نیویارک میں مختلف لیڈروں نے کے ساتھ روا رکھے جانے والے متضاد سلوک نے مغربی دنیا کے جانب سے اکثر پیش کیے جانے والے ’’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘‘ کے تصور پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ امریکہ سمیت مغربی حکومتوں کو نیتن یاہو سے متعلق آئی سی سی کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے پر تنقید کا سامنا ہے، حالانکہ ان حکومتوں نے اس سے قبل روس، یوکرین جنگ کے معاملے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل درآمد کی کوششوں کی حمایت کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے سے لے کر تیسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے تک مختلف ذرائع استعمال کیے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت شہری حقوق کی تنظیمیں بارہا آئی سی سی کے وارنٹ کا سامنا کرنے والے نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کر چکی ہیں۔
ترکی کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی کوششیں
آئی سی سی کی کارروائی کے ساتھ ترکی نے بھی غزہ میں جرائم کے ذمہ دار افراد کے خلاف بین الاقوامی طریقۂ کار کو فعال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں نیتن یاہو اور دیگر عہدیداروں کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرانے کی سمت میں عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ نوٹس کے نتیجے میں کسی مطلوب شخص کو انٹرپول کے ۱۹۶؍ رکن ممالک میں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے نیتن یاہو کی نقل و حرکت محدود ہو سکتی ہے اور ان کے لیے صرف ایسے چند راستے باقی رہ جائیں گے جہاں انہیں مخصوص سفارتی یقین دہانیاں حاصل ہوں۔ تاہم آئی سی سی کے گرفتاری کے وارنٹ پر عملی طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ ناقدین نے روم اسٹیچوٹ کے فریق مغربی ممالک کے اس رویے کو دوہرے معیار سے تعبیر کیا ہے۔ امریکہ کے دوروں کے دوران نیتن یاہو روم اسٹیچوٹ کے فریق ممالک فرانس، اٹلی اور یونان کی فضائی حدود سے گزر چکے ہیں، تاہم ان ممالک نے آئی سی سی کے تئیں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اپریل ۲۰۲۵ء میں نیتن یاہو کا ہنگری کا دورہ بھی اس وقت ممکن ہوا جب اس وقت کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی حکومت نے انہیں گرفتار نہ کیے جانے کی خصوصی ضمانت دی۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: کنگز یونیورسٹی: فلسطین نواز مظاہرے پر معطل مصری طالبعلم کا دوبارہ داخلہ
نیتن یاہو کا طیارہ نیو جرسی میں اترے گا
اطلاعات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکا کے دورے کے دوران نیتن یاہو کا طیارہ نیویارک کے کسی ہوائی اڈے کے بجائے نیو جرسی کے نیوارک ایئرپورٹ پر اترے گا۔ جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی سے پوچھا گیا کہ اگر نیتن یاہو ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئے تو کیا آئی سی سی کے گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کیا جائے گا، تو انہوں نے کہا، ’’نیویارک شہر میں قانون مجھے جو کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، ہم وہی کریں گے، لیکن اس مقصد کے لیے ہم اپنے قوانین خود نہیں بنائیں گے۔‘‘ نیویارک کے میئر نے مزید کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا تعلق ہیگ سے ہے۔ وہ جنگی مجرم ہیں جن کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مقدمہ قائم کیا ہے۔‘‘