اقوام متحدہ کے ماہر اور حماس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ملبے کو بڑے پیمانے پر ہٹانے، کچلنے اور منتقل کرنے کا عمل مظالم اور نسل کشی کے شواہد کو مٹا سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 10:00 PM IST | Gaza
اقوام متحدہ کے ماہر اور حماس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ملبے کو بڑے پیمانے پر ہٹانے، کچلنے اور منتقل کرنے کا عمل مظالم اور نسل کشی کے شواہد کو مٹا سکتا ہے۔
فرانسیسکا البانیز، جو۱۹۶۷ء سے اسرائیلی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر ہیں، نے کہا کہ غزہ کا ملبہ انسانی باقیات اور طبعی شواہد پر مشتمل ہے جو بین الاقوامی جرائم، بشمول نسل کشی، کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ شواہد کو تباہ کرنا غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث ریاستیں اور کمپنیاں بین الاقوامی مجرمانہ ذمہ داری کی پابند ہو سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے جنوری۲۰۲۴ء میں اسرائیل کو شواہد کے تحفظ کا حکم دیا تھا، مگر اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۵ء کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی کیٹرپلر، ایچ ڈی ہنڈائی، ڈوسان اور وولوو کی بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے مسماری اور ملبہ ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
بعد ازاں فلسطینی حکام کے مطابق۱۰؍ ہزار سے زیادہ افراد ابھی تک ملبے تلے دبے ہیں، اور۴؍ اگست۲۰۲۶ء کو ایک خاندان کے۱۱۲؍ افراد کی لاشیں۱۷؍ روزہ مہم میں برآمد ہوئیں جبکہ اسی حملے میں مارے گئے۴۱؍ دیگر افراد کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔
یہ بھی پڑھئے: بلجیم کی وزیرِ ہجرت نے غزہ کے ۱۳ فلسطینی طلبہ کے ملک میں داخلے کی مخالفت کی
مزید برآںحماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ملبہ ہٹا کر غزہ میں نسل کشی کے شواہد کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، ساتھ ہی بین الاقوامی تفتیش کاروں اور فورنسک ماہرین کو لاشیں برآمد کرنے اور شواہد کے تحفظ کے لیے بلانے کا مطالبہ کیا۔ حماس نے کہا کہ ایسی جگہوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا بین الاقوامی قانون اور عدالت انصاف کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق، تقریباً۱۰؍ ملین ٹن ملبہ ہٹایا یا کچلا جا چکا ہے، اور روزانہ۱۰۰؍ ٹرک ملبہ غزہ سے باہر لے جا رہاہے۔ البانیز نے اصرار کیا کہ ملبہ ہٹانے کا کوئی بھی عمل فلسطینیوں کےتیار کردہ منصوبے کے تحت ہونا چاہیے اور قابل اعتماد عناصر کی حمایت سے، اور تعمیر نو کو ماضی اور انصاف کے لیے درکار شواہد کو مٹانے پر مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا۷۰؍ فیصد حصہ اسرائیلی پابندیوں کے تابع ہے، اور اکتوبر۲۰۲۳ء سے تباہی کا پیمانہ اندوہناک ہے، جس میں۹۲؍ فیصد رہائشی اکائیوں کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔