• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کے خاندان کا پابندیوں پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

Updated: February 27, 2026, 8:08 PM IST | Washington

البانیز کے شوہر اور کم سن بچے کی جانب سے دائر کئے گئے اس کیس میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں اظہارِ رائے کی آزادی کے آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہیں۔ ان پابندیوں کے خاندان پر سنگین ذاتی اور مالی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

Francesca Albanese and Donald Trump. Photo: X
فرانسسکا البانیز اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کے خاندان نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمہ میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے طرزِ عمل پر تنقید کی وجہ سے البانیز پر عائد کردہ پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ البانیز کے شوہر اور کم سن بچے کی جانب سے واشنگٹن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کئے گئے مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں اظہارِ رائے کی آزادی کے آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہیں۔ ان پابندیوں کے خاندان پر سنگین ذاتی اور مالی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس کے تحت واشنگٹن میں ان کے گھر تک خاندان کی رسائی کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔ 

مقدمہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی تنازع اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے کام پر البانیز کے تبصرے اور مشاہدات امریکی آئین اور پہلی ترمیم کے تحت محفوظ اظہارِ رائے کے زمرے میں آتے ہیں۔ مقدمے میں سوال کیا گیا ہے کہ کیا حکومت کسی فرد اور بالواسطہ طور پر اس کے خاندان کو انسانی حقوق کے سرکاری کام کے دوران ظاہر کئے گئے نظریات پر سزا دے سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں: ٹرمپ

واضح رہے کہ البانیز مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہیں یہ عہدہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ میں مبینہ مظالم کی تحقیقات کے لئے دیا گیا ہے۔ البانیز کے خلاف یہ پابندیاں جولائی میں اس وقت عائد کی گئیں جب واشنگٹن نے البانیز کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مبینہ مہم کی مذمت کی۔ البانیز نے بارہا اسرائیل پر غزہ میں ”نسل کشی“ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں سختی سے اسے مسترد کرتے آئے ہیں۔

پابندیوں کے بعد، البانیز نے بیان دے کر اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ یہ اقدامات ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کریں گے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ان کی بیٹی امریکی شہری ہے اور امریکہ میں ان کے اثاثے موجود ہیں۔ اس کے باوجود، انہوں نے اسرائیلی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹس کی اشاعت جاری رکھی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے تنازع کے معاشی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے والے تجزیے شائع کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امدادی تنظیموں کی اسرائیلی عدالت سے فلسطین میں کام پر پابندی ختم کرنے کی اپیل

اگرچہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے باضابطہ طور پر عالمی ادارے کی نمائندگی نہیں کرتے اور ان کے پاس نفاذ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، لیکن ان کی رپورٹس اکثر بین الاقوامی سیاست اور عالمی مباحثوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات سمیت قانونی عمل کو معلومات فراہم کرتی ہیں۔

وہائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے اس مقدمے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK