• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کی معیشت دنیا کی تاریخ کے سب سے شدید بحران میں داخل: اقوام متحدہ کی رپورٹ

Updated: September 25, 2026, 5:04 PM IST | Gaza

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی معیشت دنیا کی تاریخ کے سب سے شدید بحران میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ اس کی بحالی اور تعمیر نو کی ضروریات۷۱؍ اعشاریہ ۵؍ بلین ڈالر تک پہنچ گئیں کیونکہ غزہ میں کام کرنے کی عمر کے۹۰؍ فیصد سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی معیشت دنیا کی تاریخ کے سب سے شدید بحران میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ اس کی بحالی اور تعمیر نو کی ضروریات۷۱؍ اعشاریہ ۵؍ بلین ڈالر تک پہنچ گئیں کیونکہ غزہ میں کام کرنے کی عمر کے۹۰؍ فیصد سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں ۔ اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کی کانفرنس (UNCTAD) کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ جائزہ فی کس حقیقی جی ڈی پی میں بلند ترین سطح سے کم ترین سطح تک کمی اور بحالی کی متوقع مدت پر مبنی تھا۔۲۰۲۵ء میں غزہ کی سالانہ حقیقی فی کس جی ڈی پی صرف۲۱۲؍ ڈالر، یا صفر اعشاریہ ۵۸؍ ڈالر یومیہ تھی، جو اس کی پہلے سے ہی کم۲۰۲۲ء کی سطح کا صرف۱۷؍ فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے غزہ کے۹۲؍ فیصد اقتصادی اداروں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا، جس سے تمام شعبوں میں پیداواری سرگرمی تقریباً مکمل طور پر رک گئی۔زرعی اور صنعتی پیداوار۲۰۲۲ء کے مقابلے میں ۹۴؍ فیصد گر گئی، جبکہ تعمیراتی پیداوار۹۹؍ فیصد تک تباہ ہو گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے احتجاج اور حفاظتی انتباہ کے درمیان اپنا امریکہ دورہ مختصر کیا

رپورٹ کے مطابق، لیبر مارکیٹ بھی تباہ ہو گئی،۲۰۲۵ء میں غزہ میں صرف۱۲۳۳۰۰؍ افراد ملازم تھے، جس سے کام کرنے کی عمر کی۹۰؍ فیصد سے زیادہ آبادی بے روزگار رہی۔۲۰۲۵ء میں غزہ میں قیمتیں۲۰۲۲ء کی سطح سے۲۷۴؍ فیصد زیادہ رہیں، خوراک کی قیمتیںبے قابو ہو گئیں۔ مثال کے طور پر، آلو کی قیمت تنازع سے پہلے کی سطح سے۲۰؍ گنا زیادہ تھی۔طبیعیاتی بنیادی ڈھانچے کے نقصان کا تخمینہ۳۵؍ اعشاریہ ۲؍ بلین ڈالر لگایا گیا، جو غزہ اور مغربی کنارے کی مشترکہ تنازعے سے پہلے کی حقیقی جی ڈی پی سےڈھائی گنا زیادہ ہے، اس کے ساتھ۲۲؍ اعشاریہ ۷؍ بلین ڈالر کے اقتصادی اور سماجی نقصانات بھی۔UNCTAD نے کہا کہ۲۰۲۶ء کے اوائل تک کل بحالی اور تعمیر نو کی ضروریات۷۱؍ اعشاریہ۵؍  بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں اورپائیدار جنگ بندی تک یہ بڑھتی رہیں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ہم اسرائیلی اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے‘‘

۲۰۲۵ء تک فلسطینی معیشت میں غزہ کا حصہ۴؍ فیصد سے نیچے گر گیا، جبکہ فی کس جی ڈی پی مقبوضہ مغربی کنارے کی سطح کا صرف۵؍ فیصد رہ گئی، جو تین دہائیاں قبل تقریباً برابر تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK