• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہم اسرائیلی اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے‘‘

Updated: September 24, 2026, 1:34 PM IST | Agency | New York

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب،کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مصائب اور ہلاکتیں فوراً ختم ہوں۔

British Prime Minister Andy Burnham addressing the United Nations General Assembly session. Photo: INN
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں  نے کہا کہ ’’بچوں سمیت عوام کی ایک بڑی تعداد حملوں میں ہلاک ہو چکی ہے، بہت کم امداد علاقے میں پہنچ پا رہی ہے۔‘‘

’’مل کر اقدامات کئے جارہے ہیں‘‘

اینڈی برنہم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ’’ برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اور چند ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔‘‘برنہم نے زور دے کر کہا کہ’’ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ءکو جو کچھ ہوا، وہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کے کسی بھی عمل کو جائز ثابت نہیں کر سکتا ۔ یہ معاملہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ جب کرب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہےاور دونوں قوموں کے لئے بہترین حل سمجھا جانے والا دو ریاستی حل حملوں کی زد میں ہے تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ڈونالڈ ٹرمپ واشنگٹن میں شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے

برنہم نے مغربی کنارے میں اسرائیل کے بنائے جانے والے منصوبہ بند غیرقانونی بستیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ’’اس کی  اجازت نہیں دی جا سکتی،  اسی لئے ہم نے غیرقانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی  عائد کی ہے۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیرقانونی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مصائب اور ہلاکتیں فوراً ختم ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی کے ماحول میں رہیں۔‘‘

دشمن فائدہ اٹھاسکتے ہیں

اینڈی برنہم نے کہا کہ’’ دو ریاستی حل کے لئے بات چیت جاری رکھنے اور اس ہدف کو عملی طور پر نافذ کرنے میں ناکامی سے سیاسی اداروں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے جس کا فائدہ ہمارے دشمن بھی اُٹھانا شروع کر دیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ایران کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے گا: صدر پیزشکیان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کو جواب

رجب طیب اردگان نے کیا کہا؟

اردگان نے غزہ میں پیش آنے والے حالات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کثیر تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور اسپتالوں کو شدید ایندھن کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے بڑھ گئے ہیں اور القدس میں مقدس مقامات تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے سربرا ہ کابیان
  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا کہ فلسطینیوں اور وہ تمام لوگ جو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے حق میں ہیں، انہیں دو ریاستی حل کی حمایت محض الفاظ سے آگے بڑھانی چاہئے۔ ایک آزاد، جمہوری، مسلسل ربط کی حامل اور خودمختار فلسطینی ریاست کیلئے درکار شرائط منظم طور پر کمزور کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK