اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ تھائی لینڈ کے ساتھ جھڑپ میں ۲۰؍ ہزار سے کمبوڈیائی بے گھر ہوگئے، تاہم تھائی لینڈپہلے بھی کمبوڈیائی سرزمین پر غیر قانونی قبضے کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 10:34 AM IST | New York
اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ تھائی لینڈ کے ساتھ جھڑپ میں ۲۰؍ ہزار سے کمبوڈیائی بے گھر ہوگئے، تاہم تھائی لینڈپہلے بھی کمبوڈیائی سرزمین پر غیر قانونی قبضے کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے جمعہ کو کہا کہ۲۰۲۵ء میں پڑوسی ممالک کے درمیان تازہ ترین جھڑپوں کے بعد۲۰؍ ہزار سے زیادہ کمبوڈین شہری اب بھی تھائی لینڈ کے ساتھ اپنے ملک کی سرحد کے ساتھ بے گھر ہیں۔کمبوڈیا میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ٹام اینڈریوز نے دارالحکومت پنوم پن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ سال کے آخر تک سرحدی علاقوں میں تقریباً ساڑھے چھ لاکھ کمبوڈین شہری بے گھر ہوئے تھے، جن میں سے۲۰؍ ہزار سے زیادہ اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے۔
مزید برآںاینڈریوز نے کہا کہ’’ انہوں نے ان شہریوں سے بات کی جو اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے کیونکہ ان کے گاؤں اور شہر اب تھائی فوجیوں کے قبضے میں ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ "یہ بین الاقوامی قانون کا معاملہ ہے کہ مسلح تنازع سے بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق حاصل ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک مل کر بے گھر شہریوں کی واپسی کو تیز کریں۔ بعد ازاںاینڈریوز نے جمعہ کو کمبوڈیا کا۱۲؍ روزہ دورہ ختم کیا، جس کے دوران انہوں نے سرحدی تنازع سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
واضح رہے کہ۲۰۲۵؍ میں جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور دسیوں ہزار بے گھر ہوئے تھے، اس سے قبل اکتوبر میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی موجودگی میں امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔اگرچہ لڑائی رک گئی ہے، تاہم سرحد کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے، کمبوڈیا نے تھائی لینڈ پر اپنی سرزمین کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ تھائی لینڈ نے کمبوڈین سرزمین پر غیر قانونی قبضے کی تردید کی ہے، کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق کام کر رہا ہے۔ تاہم بنکاک نے پنوم پن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ تھائی فوج نے کہا ہے کہ کمبوڈیا کی سرحد کے ساتھ مستقل باڑیں صرف موزوں علاقوں میں تعمیر کی جائیں گی جہاں وہ مستقبل میں سرحدی تنازعات کو جنم نہ دیں۔‘‘
اینڈریوز نے کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان سرحدی گزرگاہیں اب بھی معطل ہیں، جس نے کمبوڈیا کی معیشت اور سرحدی آبادی کو شدید متاثر کیا ہے جو زرعی اور دیگر اشیا، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر خدمات کی تجارت پر انحصار کرتی ہیں۔ جبکہ اینڈریوز کے بیانات پر تھائی لینڈ کی جانب سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں سائبردھوکہ دہی کے کاروبار کے بارے میں، اینڈریوز نے کہا کہ کمبوڈیا نے گزشتہ سال کے دوران اس صنعت کے خلاف کریک ڈاؤن کے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ۶۰۰؍ سے زیادہ دھوکہ دہی مرکز بند کر دیے گئے، جبکہ دھوکہ دہی آپریشنز میں ملوث تقریباً۳۰۰۰؍ افراد کے خلاف فوجداری کارروائی جاری ہے۔ حکام نے مبینہ طور پر۲۹؍ کیسینو کے لائسنس بھی منسوخ یا معطل کر دیے ہیں۔اینڈریوز نے کہا کہ انہوں نے سرکاری حکام کے ساتھدو معاملات اٹھائے، جن میں سائبر دھوکہ دہی سے معتبر طور پر منسلک اعلیٰ کمبوڈین عہدیداروں اور دیگر بااثر شخصیات کے خلاف کارروائی، اور دھوکہ دہی آپریشنز سے رہا ہونے والے افراد کو درپیش خطرناک صورتحال شامل ہے۔